BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برقعہ پوش اسمبلی میں

خاتون دیگر ارکان کے ساتھ سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ گزرتے ہوئے ہال میں جا بیٹھیں
خاتون دیگر ارکان کے ساتھ سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ گزرتے ہوئے ہال میں جا بیٹھیں
قومی اسمبلی میں بدھ کے روز اس وقت اراکین نے سیکیورٹی کے بارے میں سخت تشویش کا اظہار کیا جب ایک نقاب پوش خاتون قومی اسمبلی میں داخل ہوکر اراکین کے ساتھ بیٹھ گئیں۔

بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران یہ نقاب پوش خاتون، سیکورٹی اہلکاروں کے سامنے سے گزرتی ہوئی ایوان کے اندر داخل ہوئیں اور خاموشی کے ساتھ حکومتی بینچوں پر بیٹھ گئیں۔

حکمران مسلم لیگ کی خاتون رکن اسمبلی مہناز رفیع نے اس مشکوک خاتون سے بات کرنے کے بعد نکتہ اعتراض پر ایوان کے اندر ناقصں حفاظتی انتظامات کی نشاندہی کرتے ہوئے احتجاج کیا۔

انہوں نے بتایا کہ متعلقہ خاتون خود کو پہلے ایک رکن اسمبلی کی رشتہ دار کہتی رہیں اور جب ان سے ان رکن اسمبلی کا نام پوچھا گیا تو خاتون نے کہا کہ انہیں نام یاد نہیں ہے۔

حکام کے مطابق مشکوک خاتون کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گرفتار شوہر کی رہائی کے لیے درخواست لے کر ایوان میں آئی تھیں۔

ایسی صورتحال کا حکومت اور حزب مخالف کے اراکین نے سخت نوٹس لیتے ہوئے سپیکر سے ایوان کے اندر حفاظتی انتظامات بہتر بنانے پر زور دیا۔

سپیکر نے بھی اس پر افسوس ظاہر کیا اور متعلقہ خاتون کو سیکورٹی ایجنسیز کے حوالے کرنے کی ہدایت کی۔

حکام کے مطابق سپیکر نے اس وقعہ کی تحقیقات کرنے، پارلیمان کے حفاظتی انتظامات سخت کرنے اور نقاب پوش خواتین کی تلاشی کے معقول انتظامات کے لیے اسمبلی سیکریٹریٹ کے ایڈیشنل سیکریٹری کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنادی ہے۔

واضح رہے کہ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متخدہ مجلس عمل کی بیشتر خواتین رکن اسمبلی نقاب پہن کر اجلاس میں شرکت کرتی ہیں اور انہوں نے کہا کہ وہ اپنا ’پاس، دکھا کر آتی ہیں۔
حزب اختلاف کی بعض خواتین نے یہ بھی کہا کہ حفاظتی انتظامات کے آڑ میں قابل اعتراض اقدامات سے گریز کیا جائے۔ کچھ اراکین نے خواتین کے داخلہ کے لیے علحدہ دروازہ بنانے سمیت مختلف تجویز پیش کیں لیکن کسی پر اتفاق نہیں ہوا تو سپیکر نے کہا کہ وہ چیمبر میں مشاورت کے بعد اس پر فیصلہ کریں گے۔

ناز بیگم نامی اس خاتون کا قومی اسمبلی میں داخلہ پاس حکمران مسلم لیگ کے رکن اسمبلی سردار طفیل نے بنواکر دیا۔ رابطہ کرنے پر انہوں نے بتایا کہ لاہور سے آنے والی اس خاتون کو وہ نہیں جانتے اور انسانی ہمدردی کے تحت انہوں نے انہیں پاس بنوا کر دیا۔

متعلقہ خاتون کو حراست میں لینے کے بعد قومی اسمبلی کی سیکورٹی کے اہلکاروں اور پولیس کی سپیشل برانچ سمیت مختلف ایجنسیوں نے تفتیش کردی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد