برقعہ پوش اسمبلی میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی میں بدھ کے روز اس وقت اراکین نے سیکیورٹی کے بارے میں سخت تشویش کا اظہار کیا جب ایک نقاب پوش خاتون قومی اسمبلی میں داخل ہوکر اراکین کے ساتھ بیٹھ گئیں۔ بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران یہ نقاب پوش خاتون، سیکورٹی اہلکاروں کے سامنے سے گزرتی ہوئی ایوان کے اندر داخل ہوئیں اور خاموشی کے ساتھ حکومتی بینچوں پر بیٹھ گئیں۔ حکمران مسلم لیگ کی خاتون رکن اسمبلی مہناز رفیع نے اس مشکوک خاتون سے بات کرنے کے بعد نکتہ اعتراض پر ایوان کے اندر ناقصں حفاظتی انتظامات کی نشاندہی کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ انہوں نے بتایا کہ متعلقہ خاتون خود کو پہلے ایک رکن اسمبلی کی رشتہ دار کہتی رہیں اور جب ان سے ان رکن اسمبلی کا نام پوچھا گیا تو خاتون نے کہا کہ انہیں نام یاد نہیں ہے۔ حکام کے مطابق مشکوک خاتون کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گرفتار شوہر کی رہائی کے لیے درخواست لے کر ایوان میں آئی تھیں۔ ایسی صورتحال کا حکومت اور حزب مخالف کے اراکین نے سخت نوٹس لیتے ہوئے سپیکر سے ایوان کے اندر حفاظتی انتظامات بہتر بنانے پر زور دیا۔ سپیکر نے بھی اس پر افسوس ظاہر کیا اور متعلقہ خاتون کو سیکورٹی ایجنسیز کے حوالے کرنے کی ہدایت کی۔ حکام کے مطابق سپیکر نے اس وقعہ کی تحقیقات کرنے، پارلیمان کے حفاظتی انتظامات سخت کرنے اور نقاب پوش خواتین کی تلاشی کے معقول انتظامات کے لیے اسمبلی سیکریٹریٹ کے ایڈیشنل سیکریٹری کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنادی ہے۔ واضح رہے کہ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متخدہ مجلس عمل کی بیشتر خواتین رکن اسمبلی نقاب پہن کر اجلاس میں شرکت کرتی ہیں اور انہوں نے کہا کہ وہ اپنا ’پاس، دکھا کر آتی ہیں۔ ناز بیگم نامی اس خاتون کا قومی اسمبلی میں داخلہ پاس حکمران مسلم لیگ کے رکن اسمبلی سردار طفیل نے بنواکر دیا۔ رابطہ کرنے پر انہوں نے بتایا کہ لاہور سے آنے والی اس خاتون کو وہ نہیں جانتے اور انسانی ہمدردی کے تحت انہوں نے انہیں پاس بنوا کر دیا۔ متعلقہ خاتون کو حراست میں لینے کے بعد قومی اسمبلی کی سیکورٹی کے اہلکاروں اور پولیس کی سپیشل برانچ سمیت مختلف ایجنسیوں نے تفتیش کردی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||