دست درازی: فوجی پولیس کےحوالے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے جنوبی شہر کوہاٹ میں جمعہ کی رات نیم فوجی ملیشیا کےایک سپاہی کو مشتعل ہجوم نےایک لڑکی کی آبرو ریزی کی مبینہ کوشش کے الزام میں زدوکوب کرنے کے بعد پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ تاہم محسود سکاوٹس کے سپاہی کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ غلط فہمی کا نتیجہ تھا۔ پشاور سے تقریبا ساٹھ کلومیٹر جنوب میں کوہاٹ شہر کے محلہ میاں بادشاہ میں یہ واقعہ پیش آیا۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ محلے کے قریب ایک سکول میں بلدیاتی انتخابات میں ڈیوٹی کے سلسلے میں محسود کاوٹس کی نفری تعینات کی گئی تھی۔ ان کے مطابق ان میں سے ایک سپاہی قسمت اللہ نے محلے کے ایک مکان میں داخل ہوکر ایک لڑکی سے زیادتی کی کوشش کی۔ عورتوں کے شور پر قریب سے بلدیاتی انتخابات کے سلسلے کے جلوس میں شریک افراد نے مداخلت کی اور سپاہی کو پکڑ کر زدوکوب کیا۔ بعد میں اسے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ پولیس کو بیان میں سپاہی کاموقف تھا کہ یہ تمام واقعہ غلط فہمی کا نتیجہ تھا اور وہ اس عورت سےسکول کا پتہ معلوم کر رہا تھا کہ اس نے شور مچانا شروع کر دیا۔ اس موقف کو کوہاٹ سے سابق رکن قومی اسمبلی جاوید ابراہیم پراچہ مسترد کرتے ہوئے کہتےہیں کہ محلہ اور سکول ساتھ ساتھ ہیں۔ یہ مکان گلی کے آخر میں واقع ہے۔ اگر سڑک پر یہ واقعہ ہوتا تو بات دوسری ہوسکتی تھی مگر یہ لڑکی کے پیچھے بھاگا اور بدتمیزی کی۔ یہ یتیم لڑکی تھی اور اسے اس وقت ایک سو چار بخار بھی تھا۔ اس کی ماں لوگوں کے گھروں میں کام کر کے پیٹ پالتی ہے‘۔
جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے محسود سکاوٹس کے سپاہی کو بعد میں ملیشیا کے اہلکاروں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||