’فاٹا کوصوبائی نمائندگی دی جائے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں قبائلی علاقوں سے متعلق ایک سیمینار کے اختتام پر تمام شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ان علاقوں کو ترقی کے عمل میں ملک کے دیگر علاقوں کے برابر لانے سے ہی یہاں مذہبی انتہا پسندی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ پشاور یونیورسٹی کے ایریا سٹڈی سینٹر میں قبائلی علاقہ جات سے متعلق جاری دو روزہ سیمینار کے آخری دن ماضی کی حکومتوں پر جان بوجھ کر قبائلی علاقوں کو پسماندہ رکھنے کی پالیسی کی وجہ سے کڑی تنقید کی گئی۔ سرکاری اور غیر سرکاری اہلکار اس ایک نکتہ پر متفق نظر آئے۔ سابق رکن قومی اسمبلی لطیف آفریدی نے اعدادوشمار کے ذریعے موازنہ کرتے ہوئے بتایا کہ قبائلی کہاں کھڑے ہیں اور دیگر علاقوں کے لوگوں کی حالت کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قبائلی علاقوں کو صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے، انتظامیہ کی تشکیل نو کی جائے اور فاٹا کو وفاق کی جگہ صوبے کے زیر انتظام لایا جائے۔ سیمینار میں پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے وزیرستان کی صورتحال پر روشنی ڈالی اور اب تک کی جنگی اور سیاسی حکمت عملی کا دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پالیسی اور منصوبہ بندی کرنے والوں میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صرف اس وقت طاقت کا استعمال کیا گیا جب جرگے اور لشکر بے اثر ہوجاتے تھے۔ انہوں نے طالبان حکومت کی حمایت سے ہاتھ کھینچنے کے فیصلے کا بھی دفاع کیا اور کہا کہ ملکی پالیسیاں مفادات کے تحت تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کے فیصلے اس وقت کے حالات کی وجہ سے درست تھے اور آج کے فیصلوں کے بارے میں بھی یہی کہا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بہت سے لوگ آج بھی کل میں جی رہے ہیں‘۔ کانفرنس کے بہت سے شرکاء نے حکومت پر عام شہریوں کی ہلاکت چھپانے کا الزام بھی لگایا جس کی میجر جنرل شوکت سلطان نے تردید کی۔ سیمینار سے کئی قبائلی عمائدین نے بھی خطاب کیا اور علاقے کی ترقی کو ہی مذہبی انتہا پسندی اور دیگر مسائل کا حل قرار دیا۔ ا کثر مقررین نے اس سیمینار میں مستقبل کی سوچ کی بجائے زیادہ وقت ماضی کی ناکامیوں پر صرف کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||