قبائلی علاقوں میں پاٹا کا نفاذ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومتِ پاکستان نے بچوں کے قانونی حقوق سے متعلق جوونایل جسٹس سسٹم آرڈیننس 2000 کو صوبہ سرحد کے زیر انتظام قبائلی علاقوں یعنی پاٹا تک بڑھا دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے گورنر سرحد سید افتخار حسین نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔ پاٹا میں ملاکنڈ، سوات، دیر اور چترال کے علاوہ مانسہرہ اور کوہستان کے کچھ علاقے شامل ہیں۔ اس قانون کے نفاذ سے ان علاقوں میں عدالتی چارہ جوئی کے لیے اٹھارہ سال سے کم عمر کے شخص کو بچہ تصور کیا جائے گا اور ایسے شخص کو سزائے موت نہیں دی جا سکے گی جبکہ حکومت ملزمان کو سرکاری خرچ پر قانونی مدد دینے کی پابند ہوگی۔ اس حکومتی فیصلے سے بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں کافی خوشی کا اظہار کر رہی ہیں۔ پشاور میں سپارک نامی تنظیم کے ارشد محمود سے پوچھا کہ جن علاقوں میں یہ قانون نافذ ہے اس سے وہاں کیا تبدیلی آئی تو ان کا کہنا تھا کہ سن دو ہزار میں صوبہ سرحد کی جیلوں میں قیدی بچوں کی تعداد ایک ہزار سے زائد تھی اور پروبیشن پر صرف تیس بچے تھے جبکہ اب حالیہ سروے کے مطابق جیلوں میں بچوں کی تعداد کم ہو کر تین سو رہ گئی ہے جبکہ پروبیشن پر بچوں کی تعداد ڈیڑھ سو تک پہنچ گئی ہے یعنی اب کم بچے جیلوں میں جا رہے ہیں۔ بچوں کے حقوق کے لیے لڑنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پاٹا میں اس قانون کے نفاذ سے ان کی جنگ ختم نہیں ہوئی بلکہ ان کا مطالبہ رہا ہے کہ اسے وفاقی حکومت کے زیر انتظام قبائلی علاقوں یعنی فاٹا تک بھی بڑھایا جائے۔ اس بارے میں ارشد محمود کا کہنا تھا کہ پاٹا میں اس قانون کے نفاذ سے انہیں پچاس فیصد کامیابی ملی ہے جبکہ فاٹا کے لیے بھی ان کی کوششیں جاری رہیں گی۔ حقوق انسانی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس قانون کے بارے میں آگہی پھیلانا بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ کم عمر افراد اس سے مستفید ہوسکیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||