ہارون رشید بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور |  |
 |  پشاور میں کئی پولنگ سٹیشنوں پر مرد اور خواتین ووٹ ڈالنے آئے |
ملک کے دیگر حصوں کے طرح صوبہ سرحد میں بھی پولنگ شروع ہوچکی ہے۔ ووٹروں کا ملا جلا ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ پشاور میں کئی پولنگ سٹیشنوں پر بڑی تعداد میں مرد اور خواتین اپنا نمائندہ چننے کے لئے آ رہے ہیں جبکہ کئی سٹیشن ابھی سونے سونے ہیں۔ خیال ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہاں ووٹ ڈالنے کے لیے آنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔
 |  اگرچہ بدھ کی رات گئے وفاقی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ پشاور کے مضافات میں بڈھ بیر کے علاقے میں شیخان، ماشوخیل اور مشتارزئی کی تین یونین کونسلوں میں مقامی عمائدین نے خواتین پر ووٹ ڈالنے کی پابندی ختم کر دی ہے۔  |
اگرچہ بدھ کی رات گئے وفاقی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ پشاور کے مضافات میں بڈھ بیر کے علاقے میں شیخان، ماشوخیل اور مشتارزئی کی تین یونین کونسلوں میں مقامی عمائدین نے خواتین پر ووٹ ڈالنے کی پابندی ختم کر دی ہے۔ تاہم آج صبح ان علاقوں میں خواتین ووٹ ڈالنے کے لیے ابھی نہیں نکلی ہیں۔ شیخان کے جرگے کے رہنما حاجی راحت حسین نے بتایا کہ انہوں نے اگرچہ حکومت کو یقین دلایا ہے کہ عورتوں کو ووٹ ڈالنے سے نہیں روکا جائے گا تاہم ان کی عورتیں ووٹ ڈالنے کو تیار نہیں لہذا وہ انہیں زبردستی پولنگ سٹیشن نہیں لیجا سکتے۔ تمام پولنگ سٹیشنوں پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ کئی مقامات پر امیدواروں کے درمیان تلخ کلامی کی خبریں موصول ہوئی ہیں البتہ ابھی تک کسی علاقے سے کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ |