ضمنی انتخاب: جے یو آئی کا بائیکاٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں جمیعت علمائےاسلام (س) نے مالاکنڈ میں قومی اسمبلی کی نشت این اے پینتیس پر پندرہ دسمبر کو ہونے والے ضمنی انتخاب کے غیرجانبدارانہ انعقاد پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ سرحد میں چھ دینی جماعتوں کے حکمران اتحاد متحدہ مجلس عمل اور جمیعت علماء اسلام (سمیع الحق گروپ) کے صوبائی سربراہ قاضی عبدالطیف نے اس بائیکاٹ کا اعلان پشاور میں ایک اخباری کانفرنس میں کیا۔ این اے پینتیس سے جے یو آئی (س) کے امیداوار شاہنواز خان ایڈووکیٹ نےاس موقع پر انتخاب سے دستبرداری کا اعلان کیا۔ قاضی عبدالطیف کا کہنا تھا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے امیدواروں کے میدان میں اترنے سے اس انتخاب کا غیرجانبدارانہ اور آزادانہ انعقاد ناممکن ہوگیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دونوں حکومتیں مداخلت کر رہی ہیں اور اپنے اپنے امیدواروں کے حق میں سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے جماعت کے کارکنوں نے الیکشن کمیشن کو پندرہ روز قبل ہی تحریری طور پر ان انتخابات سے متعلق اپنے خدشات پیش کر دیے تھےالبتہ ان کا انہیں ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا ہے۔ قاضی عبدالطیف کا کہنا تھا کہ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ ان کے بائیکاٹ سے جماعت اسلامی کے امیدوار کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ ایم ایم اے کے رہنما نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر بھی کڑی نکتہ چینی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ امن و امان کی ہی صورتحال کو لیا جائے تو آج کوئی بھی اپنے گھر، دفتر یا کہیں اور محفوظ نہیں۔ انہوں نےاپنی جماعت کو نظر انداز کرنے پر اتحاد کی دو بڑی جماعتوں جے یو آئی (ف) اور جماعت اسلامی پر بھی تنقید کی۔ ایک سوال کہ جواب میں کہ ان کی جماعت کے مرکزی رہنما مولانا سمیع الحق نے اب تک حلقے کا دورہ نہیں کیا اور نہ ہی کسی جلسے سے خطاب کیا ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کی جماعت کا معاملہ ہے۔ این اے پینتیس کی نشست جماعت اسلامی کے رکن مولانا عنایت الرحمان کی وفات سے خالی ہوئی تھی۔جے یو آئی (س) کے امیدوار کی دستبرداری سے ضمنی انتخاب میں معرکہ اب مرکز میں حکمران مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل سلیم سیف اللہ خان، متحدہ مجلس عمل کے بختیار معانی اور پیپلز پارٹی کے ہمایوں کے درمیان ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||