| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
جے یو آئی سے مفاہمت ناکام
پاکستان کے صوبہ سرحد میں حکمراں اتحاد متحدہ مجلس عمل کی ایک جماعت جعمیت علماء اسلام (سمیع الحق گروپ) کی ناراضگی دور کرنے کی کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئیں۔ فیصلہ اب اتحاد کی مرکزی قیادت کرے گی۔ متحدہ مجلس عمل کی بڑی جماعتوں کے رہنماؤں قاضی حسین احمد، سینئر صوبائی وزیر سراج الحق، ایم ایم اے کے مرکزی قائم مقام سیکرٹری جنرل حافظ حسین احمد اور پروفیسر محمد ابراہیم پر مشتمل ایک وفدنے جے یو آئی (س) کے صوبائی سربراہ قاضی عبدالطیف سے ملاقات کی۔ تین گھنٹوں تک بند کمرے میں جاری رہنے والی اس ملاقات کا بظاہر کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ قاضی لطیف نے بعد میں بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وفد کے پاس اختیار نہیں تھا۔ ’اب یہ معاملہ مرکزی قیادت ہی درست کرسکے گی‘۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت، دس ماہ سے اتحاد میں شامل چھوٹی جماعتوں کے ساتھ مل کر شکایت کر رہی تھی لیکن شنوائی نہیں ہو رہی تھی۔ ’اس سے قبل جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان صاحب نے بھی ایک کمیٹی بنائی تھی لیکن اس کا بھی کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا تھا‘۔ قاضی لطیف کا کہنا تھا کہ وہ اتحاد کو موجودہ حالات میں مزید مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ان کی بات کوئی نہیں سنتا ہے۔ ’مردان کے واقعہ نے واضع کردیا کہ بڑی جماعتوں کے نمائندوں کے حلقے ان کی ریاستیں ہیں جس میں کوئی دوسرا نہیں یہاں تک کہ وفاقی وزیر بھی بغیر ویزا نہیں آسکتا‘۔ انہوں نے ان مذاکرات کو حوصلہ افزار قرار دینے سے گریز کیا التبہ کہا کہ ایم ایم اے سے علیحدگی کا حتمی فیصلہ جماعت کی مرکزی کونسل ہی کر سکے گی جسے طلب کرنے کا اختیار مولانا سمیع الحق کے پاس ہے۔ جے یو آئی (س) نے اپنی شکایات کی وجہ سے فی الحال صوبے میں ایم ایم اے کی سرکاری مصروفیات کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||