BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 September, 2003, 15:09 GMT 19:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحد: سمیع الحق گروپ کی دھمکی

سرحد اسمبلی
سرحد اسمبلی میں جے یو آئی (س) کے ارکان کی تعداد دو ہے

پاکستان کے صوبہ سرحد میں حکمراں اتحاد متحدہ مجلس عمل کی رکن جماعت جعمیت علمائے اسلام (سمیع الحق گروپ) کی صوبائی کابینہ نے منگل کے روز پشاور میں ایک اجلاس میں جے یو آئی کی صوبائی شوریٰ سے اتحاد سے حمایت واپس لینے کی سفارش کی ہے۔

جے یو آئی کو حکمراں اتحاد میں شامل بڑی جماعتوں سے اپنے اراکین کے حلقوں میں ترقیاتی کام نہ کئے جانے جیسی کئی شکایات ہیں۔

چھ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی چھوٹی جماعتوں کے صوبائی کابینہ میں نمائندگی اور مناسب اہمیت نہ دینے جیسے گلے شکوے سامنے آتے رہتے تھے لیکن کسی رُکن جماعت کی جانب سے یہ پہلی مرتبہ باضابطہ شکایت سامنے آئی ہے۔

جعمیت علمائے اسلام (سمیع الحق گروپ) کی صوبائی کابینہ کا اجلاس جماعت کے صوبائی سربراہ مولانا عبدالطیف کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں مسلسل نظر انداز کئے جانے کی شکایت پر بطور احتجاج صوبائی شوریٰ سے اتحاد سے علیحدہ ہونے کی سفارش کی گئی ہے۔

جے یو آئی (س) کے صوبائی سیکرٹری جنرل مولانا یوسف شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی جماعت کو شکایت ہے کہ انکے اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہو رہے جبکہ سوموار کے روز مردان شہر میں جے یو آئی (س) کے ایک مدرسے کو قدرتی گیس کی ترسیل پر جے یو آئی فضل الرحمان گروپ کے کارکنوں نے شدید احتجاج کیا جس کی وجہ سے پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا۔

انہوں نے بتایا کے ان کی جماعت نے بار بار صوبائی وزیر اعلیٰ اور ایم ایم اے کی قیادت کو اپنی شکایات سے آگاہ کیا لیکن ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

اس سے قبل صوبے میں حزب اختلاف کی جماعتیں بھی ایم ایم اے پر ترقیاتی منصوبوں میں نظر انداز کئے جانے کا الزام عائد کر چکی ہیں۔ انہوں نے بھی حکمراں اتحاد پر غیر منتخب افراد کے ذریعے ترقیاتی کام کرانے کا الزام لگایا تھا۔

صوبائی کابینہ کے فیصلے پر غور کے لئے جماعت کی صوبائی شوری کا اجلاس آئندہ ماہ کی پانچ تاریخ کو ایبٹ آباد میں طلب کر لیا گیا ہے۔ صوبائی شوریٰ کی توثیق کی صورت میں یہ معاملہ جے یو آئی (س) کی مرکزی شوریٰ کے پاس جائے گا۔ البتہ مولانا یوسف شاہ کا کہنا تھا کہ حتمی فیصلہ جماعت کے سربراہ مولانا سمیع الحق ہی کریں گے۔

جعمیت علمائے اسلام (س) کے سرحد اسمبلی میں دو جبکہ قومی اسمبلی میں تین ارکان ہیں۔ اگرچہ ان کی شکایات کو بات چیت کے ذریعے حل کئے جانے کے امکانات کافی ہیں لیکن اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایم ایم اے حکومت کو اپنے اتحادیوں کو مطمئن کرنے شدید دقت کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد