BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حزب اقتدار کا احتجاج

بلوچستان
بلوچستان اسمبلی میں حزب اقتدار کا احتجاج

بلوچستان اسمبلی میں مسلم لیگ قائداعظم اور نیشنل الائنس کے اراکین نے پارلیمانی تاریخ میں پہلی دفعہ اپنی ہی حکومت کے خلاف بائیکاٹ کیا۔

احتجاج کرنے والے حکومتی اراکان میں سابق وزیراعلی بلوچستان اور وزیراعظم ظفراللہ جمالی کے قریبی عزیز جان جمالی بھی شامل تھے۔

انھوں نے کہا ہے مجلس عمل کے اراکین کو اہم وزارتیں دی گئی ہیں اور اب فنڈز کی تقسیم بھی غیر منصفانہ طریقے سے کی جارہی ہے ۔

مسلم لیگ قائداعظم اور نیشنل الائنس کے نواراکان بدھ کو احتجاج کرتے ہوئے اسمبلی ہال سے باہر نکل گئے ۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ مخصوص لوگ حکومت پر قابض ہیں اور یہ کہ حزب اقتدار سے تعلق رکھنے والے اراکان کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے تو حزب اختلاف کے ساتھ کیا رویہ ہو گا۔

ان اراکین نے زیادہ زور حال ہی میں اٹلی کی حکومت کی جانب سے ملنے والی رقم دوارب ستر کروڑ کی تقسیم اور وزارتوں میں ان کی نمائندگی پر دیا ہے۔

سابق وزیراعلی جان جمالی نے صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حالات اسی طرح چلتے رہے تو پھر حکومت کا چلنا مشکل ہو گا کیونکہ اس وقت اہم وزارتیں مجلس عمل کو دی گئی ہیں۔ جبکہ مخلوط حکومت میں شامل دیگر جماعتوں کو معمول کی وزارتیں دی گئی ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ وزیراعلی جام یوسف کو چاہیے کہ وہ فی الفور مسلم لیگ کا اجلاس طلب کریں پھر گرینڈ نیشنل الائنس میں شامل جماعتوں کے اراکین اسمبلی کو بلوائیں اور پھر مجلس عمل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وزارتوں کو دوبارہ تقسیم کیا جائے اور تمام جماعتوں کو برابر کی نمائندگی دی جائے۔

انھوں نے کہا کہ مجلس عمل کو کارآمد وزارتیں دی گئی ہیں جبکہ دیگر جماعتوں کو سی اور ڈی کلاس کی وزارتیں دی گئی ہیں ۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہیں ہوتے تو وہ سیاسی لوگ ہیں اور اپنے فیصلے وہ خود کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومتیں اعتماد پر چلتی ہیں اگر مخلوط حکومتوں میں آپس میں ہی اعتماد نہیں ہے تو پھر حکومتیں نہیں چل سکتیں۔

احتجاج کرنے والے دیگر اراکین شعیب نوشیروانی اور شیر جان بلوچ نے کہا ہے کہ انھیں اعتماد میں نہیں لیا جاتا اور ان کی حکومت میں کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔

قائد حزب اختلاف کچکول علی نے کہا کہ فنڈز کی تقسیم میں من پسند حلقوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی اور سینیئر وزیر نے کمیٹی قائم کرنے کے باوجود ان کے مطالبات کی طرف کان تک نہیں دھرا بلکہ ذاتی فیصلوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے سینیئر وزیر مولانا عبدالواسیع نے کہا ہے کہ اٹلی کی حکومت نے ان علاقوں کے لیے فنڈز دیے ہیں جو افغان مہاجرین کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا جب فنڈز دینے والے ممالک ہی جب ایک شرط عائد کردیں تو وزراء کیا کرسکتے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے جن علاقوں کے لیے فنڈز ملتے ہیں انہی علاقوں میں خرچ کیے جانے چاہیں۔

سیاسی مبصرین نے کوئی ڈیڑھ ماہ بعد منعقد ہونے والے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کی بابت کہا ہے کہ دراصل یہ بحث احتجاج اور مذاکرات فنڈز کے حصول کے لیے تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ فنڈز ذاتی مقاصد کے لیے حاصل کئے جاتے ہیں یا حقیقی طور پر لوگوں کی خدمت کے لیے حاصل کیے جاتے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد