آج جھنگ میں ضمنی انتخاب ہوگا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتوار کے روز جھنگ میں ملت اسلامیہ ( کالعدم سپاہ صحابہ) کے سربراہ اعظم طارق کے قتل سے خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی نشست پر ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ ہورہی ہے جہاں سخت حفاظتی انتظامات کیے گۓ ہیں۔ جھنگ میں شیعہ سنی کشیدگی اور ممکنہ ہنگامہ آرائی کو روکنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری کے علاوہ رینجرز کو بھی طلب کرلیا گیا ہے جس نے ہفتہ کے روز شہر میں فلیگ مارچ کیا۔ جھنگ شہر اور نواح پر مشتمل قومی اسمبلی کے حلقہ نواسی میں دو لاکھ پینتیس ہزار سے زیادہ ووٹرز ہیں جو صبح آٹھ بجے سے شام پانچ بجے تک دو سو بائیس پولنگ اسٹیشنوں پر اپنے ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ جھنگ انیس سو پچاسی سے فرقہ وارانہ شدت پسندی کا مرکز رہا ہے اور زیادہ انتخابی مقابلوں میں دیوبندی تنظیم کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان کے امیدوار کامیاب ہوئے۔ گزشتہ سال اکتوبر میں کالعدم سپاہ صحابہ کے سربراہ اعظم طارق کے قتل سے یہ نشست خالی ہوگئی تھی جہاں اتوار کو ضمنی انتخاب ہورہا ہے۔ اس مقابلہ میں اس وقت تین بڑے امیدوار میدان میں ہیں۔ ایک طرف مولانا اعظم طارق کے بھائی عالم طارق ہیں جو آزاد پارلیمانی گروپ کی طرف سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ دوسری طرف حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ کے شیخ وقاص ہیں اور تیسرے امیدوار حسن محی الدین قادری کا تعلق علامہ طاہر القادری کی جماعت عوامی تحریک سے ہے۔ پولنگ پر کسی ہنگامہ آرائی کو روکنے کےلیے ہریذائڈنگ افسروں کو میجسٹریٹ کے اختیارات دیے گۓ ہیں۔جھنگ کی مسجدوں، امام بارگاہوں اور سرکاری دفتروں پر پولیس تعینات کردی گئی ہے اور پولنگ سٹیشنوں کا الیکٹرانک آلات اور سراغ رساں کتوں کی مدد سے معائنہ کیا گیا۔ شہر کے ایک مقامی ہوٹل میں ایک وفاقی انٹیلی جنس ادارے نے مانیٹرنگ مرکز بنایا ہوا ہے۔ فرقہ وارانہ اعتبار سے اس حساس حلقہ میں ہونے والا الیکشن صوبہ پنجاب کی امن و امان کی صورتحال کے لیےخاصی اہمیت کا حامل ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||