BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 May, 2004, 21:17 GMT 02:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کابینہ میں شمولیت سے انکار

سرحد کی کابینہ
’جماعت کا کوئی رکن کابینہ میں شامل نہ ہو‘
پاکستان کےصوبہ سرحد میں حکمراں اتحاد متحدہ مجلسِ عمل کی ایک اہم جماعت جمعیت علماء اسلام (سمیع الحق گروپ) نے وزیر اعلی اکرم خان درانی اور اتحاد کے صوبائی عہدیداروں کو تحریری طور پر صوبائی کابینہ میں شمولیت سے انکار سے آگاہ کر دیا ہے۔

جماعت کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے بھیجے گئے اس بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ان کا اختلاف وزارت یا عہدے کی وجہ سے نہیں بلکہ اصولوں، مقاصد اور مجلس کے منشور کو عملی جامہ پہنانے کی وجہ سے تھا۔

بیان میں مزید تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر کسی کو جے یو آئی (س) کے نام پر جماعت کو بائی پاس کر کے کابینہ میں شامل کیا گیا تو یہ ہارس ٹریڈنگ ہوگی اور اس کے خلاف سیاسی اور سماجی دونوں میدانوں میں جنگ لڑی جائے گی۔

جماعت نے اپنے اراکین صوبائی اسمبلی پر بھی واضح کیا (جن کی سرحد میں تعداد صرف دو ہے) کہ اگر انہوں نے کابینہ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تو وہ اپنے آپ کو پارٹی سے خارج تصور کریں۔

جے یو آئی سمیع الحق گروپ کا کہنا ہے کہ اس کے اصولی اختلافات چلے آ رہے ہیں جس کی وجہ سے جماعت کی صوبائی قیادت مجلس سے کنارہ کشی کا اعلان بھی کر چکی ہے۔ جبکہ بعد میں جمعیت کی مرکزی شوریٰ صوبائی کابینہ میں شامل نہ ہونے کا بھی فیصلہ کر چکی ہے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق گزشتہ دنوں صوبائی حکومت نے کابینہ میں اضافے کا فیصلہ کیا تھا جس کے مطابق دو وزیر جے یو آئی (ف) اور دو جماعت اسلامی جبکہ ایک ایک چھوٹی جماعتوں سے لینے تھے۔ لیکن نئے بیان سے ظاہر ہوتا کہ ایم ایم اے میں اختلافات اپنی جگہ بدستور قائم ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد