سونیا کیس: ٹریبونل کا قیام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فیصل آباد کےسونیا ناز کیس کے لیے سیشن جج کی سربراہی میں ایک ٹریبونل قائم کردیاگیا ہے جو پیر سے اپنی تحقیقات کا آغاز کر رہا ہے۔ فیصل آبار کے سیشن جج نے پولیس حکام کو حکم دیا ہے کہ وہ پیر کو سونیا ناز اور اس سے مبینہ زیادتی میں ملوث ملزمان کو شہادتوں اور ثبوتوں کے ہمراہ پیش کریں۔ سونیا ناز نے کہا ہے کہ ان سے پولیس افسروں نے اجتماعی زیادتی کی ہے۔ سونیانا ز کیس میں دو پولیس افسروں کو عہدے سے ہٹائے جانے کے علاوہ ان کے خلاف حدود آرڈینس کے تحت الگ سے کارروائی بھی ہو رہی ہے۔ سیشن جج عبدالوحید خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹریبونل حقائق کی نشاندہی کرتے ہوئے ذمہ دارافراد کا تعین کرئے گا۔یہ ٹریبونل سات روز کے اندر اپنی تحقیقاتی رپورٹ مکمل کر لے گا۔ اپنی تحقیقات کے دوران ٹریبونل اس بات کا تعین بھی کرے گا کہ سونیا ناز سے اجتماعی زیادتی کے واقعہ کی شدت کیا ہےاوراس واقعہ کے محرکات کیا تھے؟ اس کے علاوہ ان کے شوہر کی بابت بھی حقائق کو تلاش کیا جائےگا جن کے بارے میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ گاڑیوں کی رجسڑیشن کے فراڈ میں ملوث ہیں پولیس کی حراست سے فرار ہو چکے ہیں۔ سونیا ناز کا کہنا ہے کہ انہیں فیصل آباد پولیس نے خود کہیں چھپا رکھا ہے۔
سونیا ناز دو مہینے پہلے اپنے گرفتار شوہر کی رہائی کی اپیل لےکر قومی اسمبلی کے اندر جا پہنچی تھیں جہاں سے انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔ سونیا ناز نے کہا کہ جیل سے رہائی کے بعد ان سے سپرنٹنڈنٹ پولیس انوسٹی گیشن فیصل آباد خالد عبداللہ نے زیادتی کی کوشش کی اورپھر ان کے ایما پر تھانہ جڑانوالہ کے ایس ایچ او جمشید چشتی نے جنسی زیادتی کی اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ سونیا ناز نے کہا کہ جب انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا جارہا تھا توایس پی اور دوسرے پولیس افسر دیکھ رہے تھے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نےاس معاملے میں سپیکر قومی اسمبلی کے کردار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے سونیا ناز کی داد رسی کرنے کی بجائےاراکین اسمبلی کی سکیورٹی کا مسئلہ بنا کرانہیں دوبارہ اسی پولیس کے حوالے کردیا جس کے خلاف وہ شکایت لےکر آئی تھیں۔ قومی اسمبلی میں چند اراکین اسمبلی کے توجہ دلانے پر وزیر اعظم نے اس معاملہ کا نوٹس لیا اور ان کی ہدایت پر اس معاملہ کی مختلف سطح پر الگ الگ تحقیقات ہو رہی ہیں ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||