اسی سال قبل کی توہین پر معافی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کی ایک خاتون وکیل نے پنجابیوں کی اس توہین کے خلاف عالمی سطح پر احتجاجی مہم کا آغاز کیا ہے جو ان کے بقول اسی سال پہلے انگریز ججوں نے قتل کے ایک مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئی کی تھی۔ یہ خاتون وکیل برطانوی حکومت سے معافی منگوانا چاہتی ہیں اور بھارت میں مختلف سطحوں پر احتجاج کرنے کے بعد اب پاکستان میں ہیں۔ پاکستان میں ورلڈ پنجابی کانگریس ان کی احتجاجی مہم میں شامل ہوگئی ہے۔ بھارت کی سونیا راج سود نے لاہور کے شیزان ہوٹل میں ورلڈ پنجابی کانگرس کے فخر زمان کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ انیس سو پچیس میں جب متحدہ ہندوستان پر برطانوی راج تھا دو انگریز ججوں سکاٹ سمتھ اور جے جے مارٹینا نے لاہور ہائی کورٹ میں قتل کے ایک مقدمے میں اپنے فیصلے میں لکھا کہ ’مقتول کے نزاعی بیان پر اس لیے بھروسہ نہیں کیا جاسکتا کہ کیونکہ پنجابی جھوٹے ہوتے ہیں‘۔ سونیا راج کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ آج بھی لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آف کمبائنڈ انڈیا کے ریکارڈ پر موجود ہے۔
سونیا راج نے کہا کہ انہیں اس سال مارچ میں اس کا علم ہوا تو انہوں نے اس کے خلاف ایک مہم کا آغاز کر دیا کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ انگریز ججوں نے پوری پنجابی قوم کی توہین کی ہے اور حکومت برطانیہ کو اس پر سارے پنجابیوں سے معذرت کرنا چاہیے۔ بھارتی وکیل نے کہا کہ انہوں نے ایک دستخطی مہم شروع کی، جس میں بھارتی کرکٹر کپل دیو، کلدیپ نائر، گردوارہ پربندھک کمیٹی کے اراکین اور دیگر اہم شخصیات نے حصہ لیا۔ سونیا راج نے کہا کہ ان کا مطالبہ ہے کہ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر اس معاملے پر پنجابیوں سے معافی مانگیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے پانچ سو پنجابیوں کے دستخطوں کے ساتھ ایک درخواست بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کو پیش کی ہے، جس میں ان سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ اس معاملے کو سفارتی سطح پر حکومت برطانیہ کے سامنے اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک ایسی ہی درخواست صدر جنرل پرویز مشرف کو بھی پیش کرنا چاہتی ہیں جس پر پاکستانیوں کے دستخط ہونے چاہیں۔ ورلڈ پنجابی کانگرس کے چیئرمین فخر زمان نے کہا کہ وہ پاکستانی پنجاب میں بھی ایک دستخطی مہم شروع کر رہے ہیں اور یہ مہم صرف پاکستانی پنجاب تک محدود نہیں ہوگی بلکہ ملک کے ہر بڑے شہر میں موجود پنجابیوں کو اس میں شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے نزدیک یہ معاملہ اتنا اہم ہے کہ وہ دنیا بھر میں موجود پنجابیوں کو اس احتجاج میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سونیا راج اس سلسلے میں برطانیہ اور یورپ جا رہی ہیں۔جبکہ ورلڈ پنجابی کانگرس کے اراکین بھی ان مخلتف ممالک جانے کا پروگرام بنا رہے ہیں جہاں جہاں پنجابی رہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ’ان ریمارکس سے پنجابیوں کی بڑی بے عزتی ہوئی ہے اور ان ہتک آمیز الفاظ کے خلاف مہم میں پوری دنیا کے پنجابی ضرور شامل ہونگے‘۔ بھارتی وکیل سونیا راج نے کہا کہ انہوں نےدہلی کی سپریم کورٹ میں بھی ایک اپیل دائر کی لیکن دہلی سپریم کورٹ نے یہ جواب دیا کہ یہ کسی قوم کے خلاف ایک مصدقہ رائے نہیں ہے۔ سونیا راج نے کہا کہ وہ ورلڈ پنجابی کانگرس کے ساتھ ملکر سپریم کورٹ آف پاکستان کے لاہور بنچ میں ایک اپیل دائر کر رہی ہیں تاکہ ان ہتک آمیز الفاظ کی تردید ہو سکے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||