لاہور میں عالمی پنجابی کانفرنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بارہویں عالمی پنجاب کی کانفرنس اگلے ہفتے سے لاہور میں شروع ہو رہی ہے اور اس میں بھارت سمیت دنیا مختلف ملکوں کے پنجابی سے محبت کرنے والے افراد شرکت کریں گے۔ سولہ سے انیس اپریل تک جاری رہنے والی اس عالمی پنجابی کانفرنس کے شرکاء کی سب سے بڑی تعداد یعنی تین سو افراد سولہ اپریل کو واہگہ کے راستے بھارت سے لاہور پہنچیں گے اور مجموعی طور پر دنیا کے مختلف ممالک سے ساڑھے چار سو مندوبین شرکت کریں گے۔ اس کانفرنس کا مرکزی موضوع امن ،کلچر ، آرٹ اور ادب رکھا گیا ہے اور اس میں ادیب شاعر، سیاستدان،ماہرین تعلیم ،فلمی ستارے ، صحافی اور دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد تو شرکت کریں گے ہی لیکن ان کے ساتھ ساتھ بھارت کی گلوکارہ امرپریت کور اور گلو کار ہنس راج ہنس اور ایک بھارتی میوزک گروپ بھی لاہور آئے گا اور یہ بھارتی فنکار اٹھارہ اپریل کی رات کو گلوکارپاکستانی فنکاروں کے ساتھ ملکر اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔ اس سے پہلے سترہ اپریل کی شام شہزاد رفیق ، رانا خلیل کی نئی پنجابی فلم کی رسم مہورت ادا کی جائے گی کانفرنس سے ہندی فلموں کے ہیرو راج ببر اور بھارت کے وفاقی وزیرترلوچن سنگھ اور بلونٹ رامووالیہ ،معرف ہندی رائٹرکرشنامورتی اور قبرص کی شاعرہ نیشے یاشین،بھی خطاب کریں گی۔اس کانفرنس کے اختتام پر اعلان نامہ لاہور جاری کیا جائے گا۔ ورلڈ پنجابی کانگرس کے چئیر مین فخر زمان کا کہنا ہے کہ ورلڈ پنجابی کانفرنس کا آغاز انیس سو چھیاسی میں ہوا تھا اور اس وقت سے لیکر اب تک پاکستان ، برطانیہ ،امریکہ،کینیڈااور بھارت میں گیارہ عالمی کانفرنسیں ہو چکی ہیں یہ بارہویں ہے انہوں نے کہا کہ ورلڈ پنجابی کانگرس نے اٹھارہ سال کے دوران پنجابی زبان کی ترقی کے ساتھ پاکستان بھارت تعلقات بہتری میں اہم کردار ادا کیا ہےخاص طور دونوں ممالک کے پنجابیوں کو قریب لانے میں کانگریس نے تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||