| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں پنجابی کانفرنس کا اختتام
لاہور میں تین روزہ عالمی پنجابی کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں بھارت اور پاکستان سمیت پندرہ مما لک کے ڈھائی سو کے قریب مندوبین نےایک مشترکہ طور پر’اعلان لاہور دوہزار چار‘ جاری کیاہے جس میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ جنگ آزادی کے ’ہیروز‘ کی یادگاریں محفوظ کرلی جائیں۔ ’اعلان لاہور دوہزار چار‘ کہا گیا ہے کہ لاہور کے شاہ جمال چوک میں جنگ آزادی کے ’ہیروز‘ بھگت سنگھ کے پھانسی گھاٹ اور نیلا گنبد میں دلا بھٹی شہید کے پھانسی گھاٹ کو ’یادگار‘ کے طور پر محفوظ کر لیا جائے۔ مشترکہ اعلامیہ میں پاکستان اور بھارت کی حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا کہ دونوں ممالک کی عوام کے مفاد میں ویزہ کی پابندیاں اور شرائط خاص طور پر صحافیوں کے لیے نرم کی جائیں۔ اعلان لاہور میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی عوام کے لیے بھارتی پنجاب کا ویزہ بھی جاری کیا جائے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق زبانوں کے تحفظ کے سلسلے میں پنجابی زبان کو بھی پاکستانی پنجاب میں پرائمری سطح پر نصاب کا حصہ بنایا جائے، پاکستانی پنجاب میں ایم اے پنجابی کے لیے گرومکھی کو لازی قرار دیا جائے۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ دونوں طرف کے پنجاب میں شائع ہونے والے جرائد، رسائل اور اخبارات کی تجارتی بنیادوں پر آمدو رفت کی اجازت دی جائے۔ ورلڈ پنجابی کانفرنس کے چیئرمین فخر زمان نے کہا کہ نویں عالمی پنجابی کانفرنس اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئی ہے اور اور پنجابی کی عالمی تحریک اور پنجابی زبان کو پاکستان میں اس کا مقام دلانے کی جو کوششیں کی جا رہی ہیں اس میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ عالمی پنجابی کانفرنس کا دسواں اجلاس اب چندی گڑھ (بھارت) میں، گیارہواں اجلاس یورپ میں اور بارہواں اجلاس سن دو ہزار پانچ میں لاہور ہی میں ہوگا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||