جھگڑا قومی ثقافتی پالیسی کا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی حکومت ان دنوں قومی ثقافتی پالیسی بنانے کے لیے مشاورتی سیمینار منعقد کررہی ہے جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ پہلی قومی ثقافتی پالیسی ہوگی۔ اس موضوع پر چند روز پہلے لاہور میں ایک مشاورتی سیمینار منعقد ہوا تھا۔ تاہم آج پیپلز پارٹی کے رہنما اور دانشور فخر زمان نے ان کوششوں پر سخت تنقید کرتے ہوۓ کہا ہے کہ قومی ثقافتی پالیسی تو پہلے سے موجود ہے جسے وزیراعظم بےنظیر کے دور میں اگست انیس سو پچانوے میں بنایا گیا تھا۔ فخر زمان عالمی پنجابی کانگریس کے سربراہ اور قومی کمیشن براۓ تاریخ و ثقافت اوراکادمی ادبیات کے سابق چئیرمین ہیں۔ ان کا کہنا ہے وزیر ثقافت اور وزارت ثقافت کی بیورو کریسی جھوٹ بول رہی ہے کہ قومی ثقافتی پالیسی موجود نہیں۔ فخر زمان نے الزام لگایا کہ یہ لوگ ایک نئی پالیسی بنانے کے چکر میں یونیسکو سے پیسے بٹورنا اور ہڑپ کرنا چاہتے ہیں۔ بی بی سی سے باتیں کرتے ہوۓ فخر زمان نے کہا کہ انیس سو پچانوے میں انھوں نے کہا کہ اگر حکومت نئی کلچرل پالیسی بنانا چاہتی ہے تو پہلے سے موجود پالیسی کو منسوخ کرنے کا سرکاری نوٹیفکیشن جاری کرے پھر نئی پالیسی بنائے کیونکہ انیس سو پچانوے میں بنائی گئی پالیسی کو نوازشریف حکومت نے بھی برقرار رکھا تھا اور وہ آج بھی جوں کی توں موجود ہے۔ فخر زمان نے کہا کہ سپریم کورٹ وزارت ثقافت کے اس جھوٹ کا از خود نوٹس لے کہ ثقافتی پالیسی موجود نہیں اور وہ اگر ایسا نہیں کرتی تو وہ وفاقی محتسب کی عدالت میں جائیں گے اور درخواست کریں گے کہ وزارت ثقافت کا ریکارڈ سر بمہر کیا جائے اور چھان بین کی جائے کہ کیا سچ ہے۔ فخر زمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں جو قومی ثقافتی پالیسی بنائی گئی تھی اس کے لیے ڈیڑھ سال مشاورت کی گئی تھی اور چاروں صوبوں سے قد آور دانشوروں اور اسکالروں نے حصہ لیا تھا اور اسے عوام دوست اور مقبول عام کلچر کے مطابق بنایا تھا۔ اس میں کلچر سے متعلق اداروں میں سے بیوروکریسی کا عمل دخل کم کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||