چندی گڑھ: عالمی پنجابی کانفرنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس سال فروری کے شروع میں لاہور میں نویں عالمی پنجابی کانفرنس کے انعقاد کے بعد اگلے ماہ مئی میں ایک اور عالمی پنجابی کانفرنس ہندوستان کے شہر چندی گڑھ میں منعقد کی جارہی ہے۔ ان کانفرنسوں کا اہتمام کرنے والی عالمی پنجابی کانگریس کے چئیرمین فخر زمان نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اس کانفرنس کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ عالمی پنجابی کانفرنس کا آغاز بیس سال پہلے لاہور کے بائیں بازو کے دانشوروں اور ادیبوں نے کیا تھا جنھیں اس وقت اس معاملہ پر سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تاہم اس سال لاہور میں ہونے والی پنجابی کانفرنس میں ہندوستان کے پنجاب کے وزیراعلی مہاراجہ امریندر سنگھ نے ریاستی مہمان کے طور پر شرکت کی تھی اور پنجاب کے ویراعلی چودھری پرویز الہی نے بھی اس میں شرکت کی تھی۔ عالمی پنجابی کانگریس کے چئیرمین فخر زمان نے ہندوستان کے دورہ سے واپسی پر آج لاہور میں اعلان کیا کہ دسویں پنجابی کانفرنس اٹھائیس مئی سے تیس مئی تک ہندوستان کے شہر چندی گڑھ میں ہوگی جس کا افتتاح پنجاب کے وزیراعلی امریندر سنگھ کریں گے۔ اس سے پہلے امرتسر گورونانک یونیورسٹی اور خالصہ کالج جالندھر میں دو روز تک پری کانفرنس اجلاس ہوں گے۔ فخر زمان نے کہا کہ پاکستان سے ڈیڑھ سو افراد کا ایک وفد اس کانفرنس میں شریک ہوگا جس میں مختلف شعبہ ہاۓ زندگی کے لوگ شامل ہوں گے اور کچھ ارکان پنجاب اسمبلی اور وزرا بھی ہندوستان جائیں گے۔ تاہم فخر زمان نے کہا کہ پاکستانی پنجاب کے وزیراعلی کو اس کانفرنس میں ابھی تک مدعو کرنے کی کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔ فخر زمان نے اعلان کیا کہ گیارھویں عالمی پنجابی کانفرنس بھی گیارہ اور بارہ اکتوبر کو پٹیالہ میں منعقد کی جائے گی اور اس کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان کے پنجاب کے وزیراعلی چودھری پرویز الہی کو مدعو کیاجائے گا۔ جب فخر زمان سے پوچھا گیا کہ چند ماہ بعد ہی وہ ایک اور عالمی پنجابی کانفرنس کیوں منعقد کررہے ہیں تو انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ پنجابی کانفرنس کا دونوں ملکوں کے درمیان امن کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ایک کردار رہا ہے۔ وہ ہر تیسرے مہینے کے بعد ایک عالمی پنجابی کانفرنس منعقد کرکے اس تسلسل کو قائم رکھنا چاہتے ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ اس عمل میں جھول آئے۔ فخر زمان کا کہنا ہے کہ پنجابی کانفرنس میں پنجابی زبان اور ادب کے فروغ کی بات ہوتی ہے لیکن نویں کانفرنس میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان امن کے فروغ کا معاملہ زیادہ اہم رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں طرف کے پنجاب امن کے عمل میں دو بڑے کردار ہیں۔ فخر زمان نے کہا کہ دونوں پنجابوں کے پاس حقیقی امن کی چابی ہے اور امن کا راستہ پنجاب سے گزر کر جاتا ہے۔ انھوں نے لاہور اور امرتسر کے درمیان بس سروس بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ فخر زمان نے کہا کہ ان کی تنظیم ہندوستان اور پاکستان کے درمیان امن کے قیام کے لیے ٹریک ٹو چلانے میں سرگرم رہی ہے اور اس کی ہر عالمی کانفرنس کے اعلامیہ میں دونوں ملکوں کے درمیان امن کے قیام اور لوگوں کی آمد ورفت پر پابندیاں نرم کرنے کی بات کی گئی۔ فخر زمان نے کہا کہ ان کی تنظیم پاکستان سے ہندوستان اور ہندوستان سے پاکستان جانے کے خواہشمند دانشوروں اور پیشہ ور لوگوں کو سہولت مہیا کرے گی اور انھیں ویزا لینے میں مدد دے گی۔ فخر زمان نے کہا کہ دونوں ملک ایک دوسرے کے شہریوں کو مخصوص شہروں کے بجائے پورے ملک کے ویزے جاری کیا کریں جیسا دنیا بھر کے دوسرے ممالک کرتے ہیں اور سنگل انٹری ویزوں کے بجائے ملٹی پل انٹری ویزے بھی جاری کیے جانے چاہئیں۔ چندی گڑھ میں دسویں عالمی پنجابی کانفرنس کے انعقاد اور پاکستان سے ایک بڑے وفد کو اس میں شرکت کے لیے ویزے ملنے سے اس بات کو تقویت ملے گی کہ عالمی پنجابی کانفرنس اب دونوں حکومتوں کی تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ بن چکی ہے اور پنجابی کے فروغ سے زیادہ دونوں ملکوں میں فضا امن کے لیے سازگار بنانے کے لیے کام کررہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||