BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 April, 2005, 20:33 GMT 01:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’چوک کا نام بھگت سنگھ رکھیں‘

لاہور میں پنجابی کانفرنس کے شرکاء
لاہور میں پنجابی کانفرنس کے شرکاء
پنجابی کی بارہویں عالمی کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ویزے کی پابندی ختم کی جائے۔

یہ اعلامیہ لاہور میں ہونے والی تین روزہ کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں جاری کیا گیا ہے۔اس مشترکہ اعلامیہ کو اعلان لاہور کا نام دیا گیا ہے ۔
ورلڈ پنجابی کانگرس کے زیر اہتمام ہونے والی اس عالمی پنجابی کانفرنس میں پندرہ ممالک کے ساڑھے تین سو سے زائد مندوبین نے شرکت کی جن میں بڑی تعداد بھارتی دانشوروں اور لکھاریوں کی تھی۔

اعلان لاہور میں کہا گیا ہے کہ جب تک دونوں ملکوں میں ویزے کی پابندی ختم نہیں کی جاتی اس وقت تک ملٹی پرپز ویزے جاری کیے جائیں اور جن میں مخصوص شہروں کی بجائے ملک کی ہر جگہ جانے کی اجازت موجود ہو۔

اعلامیہ میں کہاگیاہے کہ امن قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ملکوں کے نصاب سے ایک دوسرے کےخلاف نفرت انگیز مواد ختم کیا جائے۔اس عالمی کانفرنس کے شرکاء نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ لاہور کے چوک شاہ جمال کا نام بھگت سنگھ کے نام پر رکھا جائے اور ان کی ایک یادگار تعمیر کی جائے اسی طرح خواجہ خورشید انورسمیت تمام مسلمان انقلابیوں کو دونوں ملکوں کے مشترکہ ہیروز کے طور پر یاد رکھا جائے۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اس کے لاہور سمیت پنجاب کے دوسرے شہروں میں شاہراہوں اور چوراہوں کے نام صوفی شاعروں اور جدوجہد آزادی میں شہید ہونے والوں کے ناموں پر رکھے جائیں۔

یہ بارہویں عالمی پنجابی کانفرنس تین روز جاری رہی اس دوران امن کلچر ادب اور آرٹ پر مکالے پڑھے گئے۔ثقافتی شو ہوئے اور مشاعرہ منعقد کیاگیا۔

ورلڈ پنجابی کانگرس کے چئیرمین فخرزمان نے کہا کہ اس وقت ایک پنجابی یونیورسٹی کا قیام از حد ضروری ہے اور وہ اس سلسلے میں نجی شعبے میں یونیورسٹی قائم کرنا چاہتے ہیں۔

لاہور کے ضلعی ناظم میاں عامر محمود نے جو کہ تعلیمی اداروں کے ایک گروپ کے چیئرمین بھی ہیں، اس یونیورسٹی کے قیام میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔

اس تین روزہ کانفرنس میں شرکت کے لیے آئی ہوئی دہلی یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کی استاد فاطمہ حسین کا کہنا ہے کہ اس کانفرنس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے عوام کو قریب آنے کا موقع ملےگا۔

ان کا کہنا تھا پنجابی اور اردو میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے اور نہ ہی ان دونوں زبانوں میں کوئی لڑائی ہے۔

بھارتی نژاد لکھاری اور شاعر ہردیو سنگھ کا کہنا ہے کہ جس طرح دونوں ملکوں کے وزرائے اعلی کا آنا جانا بظاہر تو اچھا معلوم ہوتا ہے انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ آنا جانا لگا رہا تو شاید دونوں ملکوں میں حالات بہتر ہوجائیں گے اور ان کی کوششیں رنگ لے آئیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد