’سائنسی شواہد رد نہیں کیےجا سکتے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ فوجداری مقدمات میں محض گواہی نہ ہونے کی بنا پر جدید سائنسی طریقوں سے حاصل ہونے والی شہادت کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کے روز اسلامی نظریاتی کونسل کے زیر اہتمام اسلامک کرمنل لا ان اے گلوبلائیزڈ ورلڈ کے عنوان سے منعقد ہونے والی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے حدود قوانین کا ذکر کیا اور کہا کہ فوجداری مقدمات میں خون کے ٹیسٹ، کیمیائی تجزیہ اور دیگر سائنسی شہادتوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ صدر کا یہ موقف اس وقت آیا ہے جب پاکستان کے بڑے صوبے پنجاب کی اعلیٰ عدالت نے قرار دیا ہے کہ ’ڈی این اے ٹیسٹ، کی رپورٹ کی بنیاد پر کسی کو حدود آرڈیننس کے تحت زنا کی سزا نہیں دی جاسکتی۔ عدالت نے اس حکم میں کہا تھا کہ حدود آرڈیننس کا شہادتوں کا اپنا معیار ہے اور ایسے مقدمات میں اسلامی شرح کے مطابق کم از کم چار افراد کی گواہی ضروری ہے۔ عدالت کے اس حکم کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف نے ’ڈی این اے ٹیسٹ‘ کا ذکر کیے بغیر ’سائنسی شہادت‘ کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں بہت ترقی ہورہی ہے اور جدید طریقوں سے حاصل ہونے والی شہادت کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ تین روزہ کانفرنس میں پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل کے بارہ اراکین سمیت بھارت، انڈونیشیا، ملائیشیا، مصر، ہالینڈ اور نائیجیریا سے بائیس اسلامی ماہر شریک ہیں۔ اس کانفرنس کا مقصد اسلامی قوانین کا عالمی قوانین سے تقابلی جائزہ لے کر حدود کے معاملات سمیت مختلف قوانین کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا بتایا جاتا ہے۔ اس کانفرنس کی مرتب کردہ سفارشات کا اعلان انتیس مئی کو کیا جائے گا۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ اسلامی قوانین کی تشریح اور انصاف کی فراہمی کے سلسلے میں بہت زیادہ سوچ اور غور کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اسلام میں مساوات، اعتدال پسندی، انصاف، اور تحمل پر زور دیا گیا ہے اور ایسے بنیادی اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اسلامی قوانین کی تشریح کرنی چاہیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||