غیرت: چار ہزار سے زائد قتل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ فیصل صالح حیات نے جمعہ کو ایوان بالا یعنی سینٹ کو بتایا کہ گذشتہ چھ برس میں پاکستان کے اندر غیرت کے نام پر چار ہزار ایک سو ایک (4101) افراد کو قتل کیا گیا جن میں ستائیس سو چوہتر (2774) خواتین شامل ہیں۔ کارو کاری کی رسم کے تحت ’ناجائز‘ جنسی تعلقات کے شبہ میں مرد اور عورت کو غیرت کے نام پر قتل کیا جاتا ہے۔ اس کے متعلق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ یہ بری رسم ہے اور اس کے خلاف قانونی مسودہ تیاری کے آخری مرحلے میں ہے اور جلد ہی کابینہ میں منظوری کے لیے پیش کردیا جائے گا۔ یہ معلومات انہوں نے وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر عابدہ سیف کے سوال کے جواب میں پیش کیں ۔ کارو کاری کے معاملے پر حکومت اور حزب اختلاف کی خواتین سینیٹرز غیر اعلانیہ طور پر متفق نظر آرہی تھیں اور انہوں نے ضمنی سوالات کے دوران فوری قانون سازی اور اس معاملے پر ایوان میں بحث کرانے کے مطالبات بھی کیے۔ حکومت کی طرف سے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق غیرت کے نام پر قتل کیے گئے مردوں کی نسبت خواتین کی تعداد سو فیصد زائد ہے ۔ جبکہ عدالتوں سے باہر معاملات طے کر کے مقدمات واپس لینے کی شرح بھی عدالتوں کے فیصلوں سے کہیں زیادہ ہے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق مذکورہ عرصہ میں ترتیب وار پنجاب، سندھ ، سرحد اور بلوچستان ایسے قتل کے واقعات کی تعداد میں سرفہرست رہے۔ صوبہ پنجاب میں چھ سو پچھتر مرد اور ایک ہزار پانچ سو اٹھہتر خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کردیا گیا جس پر اٹھارہ سو چونتیس مقدمات درج کیے گئے ۔ درج شدہ مقدمات میں سے چار سو بائیس التوا میں ہیں جبکہ چودہ سو بارہ مقدمات میں سمجھوتے کیے گئے۔ پنجاب میں ایک سو ساٹھ مقدمات میں ٹرائل کورٹس نے باون ملزمان کو سزائے موت اور انسٹھ کو عمر قید کی سزا سنائی ۔ چوالیس اپیلیں لاہور ہائی کورٹ جبکہ ایک اپیل سپریم کورٹ میں زیرالتوا ہے جبکہ دیگر مقدمات کا فیصلہ عدالت سے باہر ہی طے کردیا گیا۔ صوبہ سندھ کے بارے میں سینٹ کو بتایا گیا کہ تین سو اڑتالیس مرد جبکہ سات سو اکاون خواتین کو قتل کیا گیا جس پر نو سو اسی مقدمات داخل کیے گئے ۔ ایسے مقدمات میں سے چھ سو نو ابھی تک زیر التوا ہیں اور باقیوں کا تصفیہ ہوچکا ہے۔ سندھ میں عدالتوں نے ایک مقدمے میں عمر قید جبکہ دوسرے میں پچیس برس قید کی سزا سنائی ۔ سندھ ہائی کورٹ میں کوئی اپیل زیر سماعت نہیں ہے۔ صوبہ سرحد میں وزیر داخلہ کے مطابق ایک سو اٹھاسی مرد اور دو سو ساٹھ خواتین کو اس غیر قانونی رسم کے تحت قتل کردیا گیا جس پر تین سو اکسٹھ مقدمات درج ہوئے۔ درج شدہ مقدمات میں سے ایک سو سڑسٹھ التوا میں ہیں۔ صوبہ بلوچستان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایک سو سولہ مردوں اور ایک سو پچاسی خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا۔ بلوچستان میں اس ضمن میں دو سو چھہتر مقدمات درج ہوئے جس میں سے چھیالیس ابھی تک زیرالتوا ہیں جبکہ باقی مقدمات کا تصفیہ ہوگیا۔ بلوچستان میں بارہ افراد کو سزائے موت اور چودہ کو عمر قید کی سزا سنائی گئی، اس میں سے ایک اپیل ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔ اس موقعہ پر وزیر مملکت برائے قانون و انصاف رضا حیات ھراج نے ایک ضمنی سوال کے جواب میں ایوان کو بتایا کہ بیشتر مقدمات میں خونی رشتوں کے باعث صلح ہونے کی وجہ سے ملزمان سزاؤں سے بچ جاتے ہیں۔ ماضی میں غیر سرکاری تنظمیں اکثر اس ضمن میں پیش کردہ حکومتی اعداد وشمار کو غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کی کم سے کم تعداد کہتی رہی ہیں ۔ کیونکہ ان تنظیموں کا دعویٰ رہا ہے کہ بیشتر دور دراز علاقوں میں ہونے والے واقعات نہ رپورٹ ہوتے ہیں اور نہ ہی مقدمات داخل کرائے جاتے ہیں ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||