عورتوں کے لئے بل پر مخالفت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے قومی اسمبلی میں خواتین کو تحفظ دینے اور با اختیار بنانے سے متعلق پیش کردہ بل کی پاکستان کی حکومت نےمخالفت کی ہے۔ خواتین کے امور سے متعلق وزیر اعظم کی مشیر مس نیلوفر بختیار نے اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت پہلے ہی اس ضمن میں قانون سازی کر رہی ہے لہذا اس بل کی ضرورت نہیں‘۔ حکومت کی جانب سے مخالفت کے بعد پی پی پی کی خواتین نے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت کا خواتین کی جانب متعلق دوہرا رویہ ثابت کرتا ہے کہ وہ خواتین کی ترقی‘ تحفظ اور انہیں با اختیار بنانے کی مخالف ہے‘۔ واضح رہے کہ پچھلے ہفتے خواتین کی ترقی اور حقوق سے متعلق حکومت کی جانب سے منعقد کردہ تقریب میں جس سے صدر پرویز مشرف نے بھی خطاب کیا تھا نیلوفر بختیار نے صدر پر زور دیا تھا کہ حدود آرڈیننس کے خاتمے سمیت خواتین کی ترقی سےمتعلق ’وومن کمیشن‘ کی رپورٹ پر فوری عمل درآمد کرایا جائےاور قانون سازی بھی کی جائے۔
قومی اسمبلی میں پیش کئے گئے بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں عورتوں کی ترقی‘تحفظ اور انہیں با اختیار بنانے کیلئے قانون سازی ضروری ہے تاکہ خواتین زندگی کے ہر شعبے میں برابری کی بنیاد پر شریک ہو کر ملکی ترقی میں کردار ادا کر سکیں۔ بل کے مطابق یکم جنوری سے وفاقی و صوبائی پبلک سروس کمیشنز ایک تہائی ملازمتیں خواتین کیلئے مختص کرنے کی پابند ہونگے۔ غیرت کے نام پر خواتین کے قتل(کاروکاری) یا گھریلو تشدد پر پابندی ہوگی اور خلاف ورزی کرنے والا چاہے وہ شوہر یا اسکا کوئی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو اس پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ اور تین سال قید کی سزا دی جائے گی۔ مجوزہ بل میں کہا گیا ہے کہ دس سال سے کم عمر کے تمام بچوں کیلئے تعلیم فی الفور لازمی ہوگی۔ ضلعی حکومت پرائمری تک بچوں کی تعلیم مفت فراہم کرنے کی ذمہ دار ہوگی اور خلاف ورزی کرنے والے ناظم نااہل ہوجائیں گے۔اس بل کی منظوری کے ساتھ ہی حدود آرڈیننس ختم ہوجائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||