’صدر کے بیان سے شدید دکھ پہنچا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے جنوبی پنجاب کے گاؤں میر والا میں زیادتی کا شکار ہونے والی مختاراں مائی کا کہنا ہے کہ انہیں صدر جنرل پرویز مشرف کے اس انٹرویو سے شدید دکھ پہنچا ہے جس میں انہوں نے نے پاکستان میں جنسی زیادتی کے واقعات کو کمائی کا ذریعہ قرار دیا تھا۔ اسلام آباد میں بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے ایسی بات کر کے پورے ملک کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی تذلیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر جو پاکستان کے محافظ ہیں ان کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ پاکستان میں کوئی بھی عورت پیسے کے لیے اپنے آپ کو زیادتی کا شکار نہیں کرواتی۔ انہوں نے کہا کہ عورت کے پاس اس کی سب سے قیمتی چیز اس کی عزت ہوتی ہے اور صدر نے یہ کیسے سوچ لیا کہ پاکستانی عورت ایسا کر سکتی ہے۔ مختار مائی کے مطابق ان کے ساتھ پوری دنیا ہے مگر وہ گذشتہ تین برس سے انصاف کی تلاش میں سرگرداں ہیں مگر ان کو ابھی تک یہ یقین نہیں ہے کہ ان کو انصاف مل بھی پائے گا یا نہیں۔ مختار مائی کے مطابق زیادہ تر جنسی زیادتی کا شکار عورتیں خود کشی کر لیتی ہیں۔انھوں نے استفسار کیا کہ کیا عورتیں خود کشی بھی پیسے لینے کے لیے کرتی ہیں۔ صدر کی اس بات پر کہ پاکستان میں زیادتی کا شکار خواتین کو کینیڈا کی قومیت اور ویزا فوراً مل جاتا ہے، مختار مائی کا کہنا تھا کہ انہیں بھی بیرون ملک بلانے کی پیشکش کی گئی مگر انھوں نے ٹھکرا دی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ ملک سے باہر نہیں جانا چاہتیں تو پاکستان کی کوئی بھی عورت اس طرح کر سکتی ہے۔ مختار مائی امکانی طور پر کل اسلام آباد میں صدر جنرل پرویز مشرف کے ان ریمارکس کے خلاف عورتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے ایک مظاہرے کی قیادت کریں گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||