BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 September, 2005, 11:05 GMT 16:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف کے بیان پر شدید ردِعمل
صدر مشرف
صدر مشرف نے مختاراں کو امریکہ جانے کے اجازت دینےسے انکار کر دیا تھا
پاکستانی سیاست دانوں اور دائیں بازو کی جماعتوں نے صدر مشرف کی جانب سے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو دیے گئے انٹرویو میں ’ریپ‘ کو ’کمائی کا ذریعہ‘ قرار دینے پر شدید ردِ عمل ظاہر کیا ہے۔

صدر مشرف نے کہا تھا کہ ’ آپ کو پاکستان کے حالات کو سمجھنا چاہیے۔ یہ پیسہ کمانے کا ایک ذریعہ بن گیا ہے۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ اگر آپ باہر جانا چاہتے ہیں یا کینیڈا کی شہریت یا ویزہ لینا چاہتے ہیں تو خود کو ’ریپ‘ کروا لیں‘۔

صدر مشرف نے یہ بات انٹرویو کے دوران مختاراں مائی سے متعلقہ سوال پر کہی۔ مختاراں مائی نے اس بیان پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی عورت پیسوں کے لیے اپنے آپ کو اس گھناؤنے عمل سے نہیں گزار سکتی۔

مختاراں مائی کا کہنا تھا کہ ’ میں انصاف کے بدلے اس گینگ ریپ کے بعد ملنے والی تمام رقم صدر مشرف کو دینے کیلیے تیار ہوں‘۔

اپوزیشن رکنِ اسمبلی شیری رحمان نے کہا کہ ’ مجھے یہ جان کر دھچکا لگا کہ صدر جنرل مشرف خواتین کے بارے میں اتنی نچلی ذہنیت کے مالک ہیں۔ ان کے بیان پر ساری قوم کا سر شرم سے جھک گیا ہے‘۔

مختاراں مائی

پاکستان میں حقوقِ انسانی کے لیے کام کرنے والی کاملہ حیات نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ یہ ملک میں ہونے والے زیادتی کے واقعات کو جانچنے کا انتہائی فضول طریقہ ہے‘۔

کاملہ حیات کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ برس کے دوران ریپ یا گینگ ریپ کے آٹھ سو واقعات رپورٹ ہوئے اور یہ اصل واقعات کا عشرِ عشیر بھی نہیں ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق پاکستان کے ایک نجی حقوقِ انسانی کمیشن کا کہنا ہے کہ زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین میں سے صرف ڈاکٹر شازیہ خالد نے ملک چھوڑا اور انہوں نے بھی یہ قدم بظاہر حکومت کی درخواست پر اٹھایا۔

ڈاکٹر شازیہ نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو انٹرویو میں بتایا تھا کہ انہوں نے پاکستان اس لیے چھوڑا کیونکہ زیادتی کا شکار ہونے اور اس کیس کے میڈیا میں آنے کے بعد ملٹری انٹیلیجنس کے ایک میجر نے انہیں ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد