BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 September, 2005, 12:13 GMT 17:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میڈیا کردار کشی نہ کرے: سونیا

سونیا ناز
سونیا ناز کو سپیکر قومی اسمبلی کے حکم پر جیل بھیج دیا گیا تھا
مبینہ طور پر پولیس کی زیادتی کا نشانہ بننے والی سونیا ناز نے کہا ہے کہ پریس کے ایک حصہ میں ان کی کردار کشی کی جارہی ہے اور انہیں یقین ہے کہ انہیں انصاف نہیں ملے گا بلکہ ان کو بدنام کیا جائے گا۔

پاکستان انسانی حقوق کمیشن کی چئیرپرسن عاصمہ جہانگیر کے ساتھ بدھ کو لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سونیا ناز نے کہا کہ دو ستمبر کو پولیس کی انکوائری کمیٹی نے ان کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد کہا تھا کہ ان کی ایف آئی آر درج کی جائے لیکن ان کی درخواست کے باوجود ان کی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔

لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران میں کچھ صحافیوں کا رویہ سونیا ناز سے خاصا جارحانہ رہا اور ایک صحافی شور شرابا کرکے پریس کانفرنس کے بائیکاٹ پر اصرار کرتے رہے۔ یہ صحافی سونیا ناز سے ان کے ماضی کے بارے میں سوال کرتے رہے کہ کیا وہ ماڈلنگ کرتی تھیں، ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے ثبوت مانگتے رہے، ان سے قانونی نکات پوچھتے رہے اور ان کے جوابات پر جرح در جرح کرتے رہے۔

ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ وہ قانون کی کس دفعہ کے تحت اپنی ایف آئی ار درج کرائیں گی اور ایک نے سوال کیا کہ کیا وہ ملک چھوڑ کر چلی جائیں گی۔

سونیا ناز نے کہا کہ کچھ اخباروں میں ان کو ایک برے کردار کی عورت کے طور پر پیش کیا جارہا ہے اور الزام لگایا جارہا ہے کہ وہ پیسوں کے لیے یہ کھیل کھیل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ الزامات درست بھی مان لیے جائیں تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ان سے جبری زیادتی (ریپ) کی جاتی اور ان کے منہ میں پیشاب کرکے ان کی بے حرمتی کی جاتی۔

تاہم انہوں نےنام لےکر انگریزی اخبار ڈان کا شکریہ ادا کیا جس نے ان کے بقول ان کا معاملہ انصاف سے پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض اخبارات جس طرح ان کے بارے میں لکھ رہے ہیں اگر ایسا ہی ہوتا رہا تو آئندہ زیادتی کا نشانہ بننے والی کوئی عورت اخبار والوں سے بات نہیں کرے گی۔

سونیا ناز نے کہا کہ کہا جارہا ہے کہ وہ پیسوں کے لیے یہ سب کچھ کررہی ہیں جبکہ حقیقت میں آج تک انہیں کسی نے کوئی پیسہ نہیں دیا بلکہ ان کے دونوں بچے بیمار ہیں اور ان کو دوا دینے والا کوئی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ ریپ کی ذمہ داری سپیکر قومی اسمبلی امیر حسین پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے قومی اسمبلی میں داخل ہونے پر ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرا کے انہیں جیل تو بھجوا دیا لیکن یہ تک نہیں پوچھا کہ ان کی شکایت کیا تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر قومی اسمبلی کے سپیکر اس وقت ایس پی خالد عبداللہ کے خلاف کارروائی کا کہتے تو ان کو ان کے ساتھ ریپ کرنے کا حوصلہ نہ ہوتا۔

سونیا ناز نے کہا کہ انہوں نے رکن قومی اسمبلی مہناز رفیع سے مدد مانگی تو انہوں نے ان سے تعاون نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ ان کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ ملازمت کرتی تھیں اس لیے برے کردار کی ہیں تو کیا وہ سب عورتیں جو ملازمت کرتی ہیں برے کردار کی ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی مشیر ڈاکٹر نیلو فر بختیار بھی تو ملازمت کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس زیادتی کے خلاف اس لیے آواز اٹھائی ہے کہ جب کسی عورت سے ایسا ہو تو وہ خاموش نہ رہے۔

سونیا ناز نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ وہ عاصمہ جہانگیر کے ادارہ دستک میں پولیس ان کی حفاظت کے لیے تعینات ہے بلکہ درحقیقت وہ پولیس کی تحویل میں ہیں جو واش روم تک ان کا پیچھا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسری طرف ان کے ملزم ایس پی خالد عبداللہ کے خلاف نہ تو ایف آئی آر درج کی گئی اور وہ آزادی سے گھوم رہے ہیں۔

سونیا کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ دو ستمبر کو پولیس نے عدالتی انکوائری کا بہانہ بنا کر ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کردیا جبکہ اس کا نوٹیفکیشن تین ستمبر کو کیاگیا۔ انہوں نے کہا کہ اب سپریم کورٹ کو پولیس کی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ پیش کردی گئی ہے اور ان کی درخواست ہے کہ عدالت عظمی جلد اس کو دیکھ کر اس بارے میں کوئی ہدایت جاری کرے۔

ایک سوال کے جواب میں سونیا ناز نے کہا کہ انہوں نے زیادتی کے بعد اپنا طبی معائنہ نہیں کرایا تھا کیونکہ ان کے گھر والوں نے ان کو نکال دیا تھا اور وہ تین ماہ تک منہ چھپاتی پھرتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے انکوائری کمیٹی کے سامنے ثبوت پیش کیے ہیں اور ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے انہیں زیادتی کے بعد اس حالت میں دیکھا تھا۔

سونیا ناز نے کہا کہ ان کے خاوند نے انہیں کہا ہے کہ اخباروں میں ان کے بارے میں جو کہانیاں چھپ رہی ہیں ان کے بعد وہ ان کے ساتھ نہیں رہ سکتے اور انہیں طلاق دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خاوند انہیں پولیس یا کسی اور دباؤ پر طلاق دے رہے ہیں۔

سونیا ناز نے کہا کہ اب فیصل آباد کے ڈی آئی جی چودھری سجاد کی رائے شروع میں ان کی تائید میں نہیں تھی لیکن بعد میں انہوں نے ان کے الزامات پر خود انکوائری کروائی اور اب جب انہوں نے ان کے حق میں بات کی ہے تو کہا جارہا ہے کہ وہ ڈی آئی جی کے کہنے پر ایس پی کے خلاف الزامات لگار رہی ہیں۔

انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر نے صدر جنرل پرویز مشرف پر کڑی تنقید کی اور انہیں امریکہ میں یہ بیان دینے پر سخت بُرا بھلا کہا کہ پاکستان میں جس عورت کو امریکہ یا کینیڈا سے ڈالر لینے ہوں وہ ریپ کا شکار بن جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت انکوائری کے بعد انکوائری کرکے معاملے کو دبانا چاہ رہی ہے۔

66مائی کا جواب
مختاراں مائی: زنا بالجبر کا بدلہ لینے کے لیے سکول
66امریکہ نہیں جا رہی
لیکن نقل و حمل پر پابندیاں جاری ہیں۔
66مختار مائی سے ملاقات
مختار مائی کے گھر پر سخت سکیورٹی
66دوسرا راستہ نہیں تھا
ڈاکٹر شازیہ برطانیہ میں بھی ڈری ڈری ہیں۔
66دست درازی کاواقعہ
دست درازی کے الزام میں سپاہی پولیس کےحوالے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد