’امریکہ نہیں جا رہی ہوں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تین سال پہلے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی جنوبی پنجاب کے گاؤں میر والا کی مختار مائی کا کہنا ہے کہ انھوں نے امریکہ جانے کے لئے جمع کرائی گئی درخواست واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ میر والا میں ان کی نقل و حرکت پر پابندی بدستور قائم ہے اور ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ڈالنے سے ان پر دباؤ ہے۔ مختار مائی نے منگل کو وزیر اعظم شوکت عزیز کی مشیر نیلوفر بختیار کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حفاظت کے لئے پولیس تو تین برس سے موجود ہے مگر ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ان کو اپنا کام کرنے سے روکا جا رہا ہے اور ان کو گھر کے دروازے سے باہر نہیں نکلنے دیا جا رہا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان کو حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کی نظر بندی ختم کر دی جائے گی اور وہ کہیں بھی جا سکتی ہیں۔ مختار مائی کو پیر کی شام میر والا سے پہلے لاہور اور پھر اسلام آباد لایا گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومت مختاراں مائی کے اوپر شدید دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ ملک سے باہر نہ جائیں۔ مختار مائی سے پریس کانفرنس میں جب اس بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان کو انا نامی ایک تنظیم نے امریکہ کے دورے کی دعوت دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کو کل رات ان کے بھائی نے فون کر کے بتایا کہ ان کی والدہ کی طبیعت خراب ہے اور اس وجہ سے وہ امریکہ جانے کے لئے جمع کرائی گئی درخواست واپس لے رہی ہیں۔ مختار مائی نے کہا کہ وہ مستقبل میں امریکہ ضرور جائیں گی۔ انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے ان کو سکول قائم کرنے کے سوال کے جواب میں کہا کہ وہ صدر جنرل پرویز مشرف کی عوام ہیں اور اگر وہ ان کی مدد نہ کرتے تو کیا امریکہ والے ان کی مدد کرتے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ ان کو انصاف دلائیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کو سپریم کورٹ سے انصاف ملنے کی امید ہے۔ اس موقع پر وزیر اعظم کی مشیر نیلو فر بختیار نے تسلیم کیا کہ مختار مائی کا نام ای سی ایل پر موجود ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ سب غلط فہمی کی وجہ سے ہوا ہے اور وزیر اعظم شوکت عزیز نے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم بھی دیا ہے جس کی رپورٹ چند روز میں آ جائے گی۔ نیلوفر بختیار کا کہنا ہے کہ مختار مائی پہلے بھی باہر گئی ہیں اور حکومت نے کبھی بھی ان کی نقل وحرکت پر پابندی نہیں لگائی۔ نیلوفر بختیار نے کہا کہ مختار مائی کے معاملے پر حکومت پر کوئی امریکی دباؤ نہیں ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||