عورت کےحالات، بہتری کیا ہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں خواتین کی حیثیت ایک متنازعہ موضوع رہی ہے۔ ہر آنے اور جانے والی حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اس کے دور میں خواتین کی حیثیت میں بہتری آئی ہے لیکن اس بہتری کو ناپنے کا پیمانہ کیا ہے؟۔ کیا پارلیمان میں خواتین کی نشستوں میں اضافے کا مطلب خواتین کی ترقی ہے یا ملک کی بیس فیصد شہری آبادی میں شامل خواتین کے طرزِ زندگی میں آنے والی جدت کو ترقی کہا جائے یا پھر یہ تعلیم کے تناسب میں اضافہ ہے۔ جب ہم خواتین کی ترقی کی بات کرتے ہیں تو اسّی فیصد دیہی آبادی کی خواتین کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو آج کے اس دور میں بھی زمانہ جاہلیت کے رسوم و رواج کے مطابق زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
ان پر ڈھائے جانے والے مظالم اور انہیں ان مظالم پر خاموش رکھنے کے ہتھکنڈے بھی بہت فعال طریقے سے استعمال ہو رہے ہیں۔ اسلام آباد میں قائم خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم پروگریسو وومن ایسوسی ایشن کی سربراہ شہناز بخاری نے جمعہ کو اسی موضوع پر لندن میں ایک ورکشاپ منعقد کی جس میں گزشتہ دس سال کے دوران خواتین کے حیثیت اور ان کے حالات پر روشنی ڈالی گئی۔ ورکشاپ میں خواتین کے خلاف تشدد کے وہ واقعات شاملِ تذ کرہ رہے جو اس تنظیم کے پاس ریکارڈ کیےگئے۔ادارے کے مطابق 1998 میں خواتین کے ساتھ تشدد کے 1470 واقعات ہوئے۔ یہ تشدد مختلف اشکال میں ہوتا ہے جن میں زبر دستی کی شادیاں، بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، شوہر کے ہاتھوں بیوی یہاں قابلِ افسوس امر یہ ہے کہ 2004 میں خواتین سے تشدد کے 1429 واقعات ہوئے جو کہ گزشتہ دو برس کی تعداد سے زیادہ ہیں۔ شہناز بخاری کہتی ہیں کہ بلاشبہ یہ تعداد زیادہ ہے مگر اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ لوگوں میں شعور بڑھ رہا ہے اور بہت سے ایسے واقعات جو پہلے منظرِ عام پر نہیں آتے تھے وہ اب سامنے آ رہے ہیں اور لوگوں میں ان مسائل پر بات کرنے کا حوصلہ پیدا ہو رہا ہے۔ تاہم ساتھ ہی یہ حقیقت بھی لمحہ فکریہ ہے کہ اب بھی ایک بڑی تعداد میں ایسے واقعات رپورٹ ہی نہیں کیے جاتے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ملک میں خواتین کو جلانے کے واقعات بھی بڑے پیمانے پر ہوتے آئے ہیں۔ ان میں خواتین پچاس فیصد سے زیادہ جلائی گئی تھیں۔
ان چار سالوں میں ان واقعات میں اوسطاً چھ فیصد خواتین کی جان بچائی جا سکی جبکہ صرف چار فیصد ملزمان پر جرم ثابت ہو سکا اور انہیں سزا ہوئی اور اس گھناؤنے جرم میں ملوث بیشتر افراد قانون کے شکنجے سے نکلنے میں کامیاب رہے۔ شہناز بخاری کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں ایسا کوئی خصوصی ہسپتال یا ’برن سینٹر‘ موجود نہیں ہے جہاں جلائی گئی خواتین کے مناسب علاج کی سہولت موجود ہو۔ صرف لاہور میں ایک ایسا سنٹر قائم کیا گیا ہے۔ تاہم وہاں علاج کی سہولیات بہت مہنگی ہیں اور آدمی کی پہنچ سے دور ہیں۔ دوسرا بڑا مسئلہ یہ کہ مظالم کا شکار ہونے والی خواتین کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ ان واقعات پر خاموش رہیں۔ اس کے لیے بھی کئی ہتھکنڈوں کا استعمال کیا جاتا مثلاً طلاق کی دھمکی، مزید مظالم ڈھانے کی دھمکی یا لڑکی کے گھر والوں سے بدسلوکی کی دھمکی یا پھر ظلم کرنے والا اپنی حیثیت کا استعمال کرتا ہے اور عدلیے کے فیصلوں کو اپنے حق میں موڑ لیتا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسے بِل پر کام کر رہا ہے جس میں ایسے قوانین کے خاتمے کی تجاویز موجود ہیں جو خواتین کے ساتھ امتیازی اور ظالمانہ سلوک کا باعث بنتے ہیں۔ تو گویا خواتین کی حیثیت میں حقیقی بہتری آنے کی راہ میں بہت سی رکاوٹیں ہیں۔ سب سے پہلے ان رکاوٹوں کو دور کرنے ہو گا اس کے بعد ہی پاکستان میں خواتین کی اصل ترقی ممکن ہو سکے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||