BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنسی ہراس کی اذیت کب تک

News image
ایچ آر سی پی کے مطابق سن 2002 اور 2003 کے دوران جنسی تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے
سائرہ کہتی ہے ’یونیورسٹی میں ایک ٹیچر کمپیوٹر سکھانے کے بہانے طالبات کے ہاتھ یا کندھے پر اپنا ہاتھ چھونے کی کوشش کرتے انہیں گھورتے اور نہایت گھٹیا حرکتیں کرتے تھے‘۔

صوبہ سرحد کی ایک خاتون نے بتایا ’میرے شوہر نے میری بہو کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ جب میں نے اور دوسرے لوگوں نے شور مچایا تو اس نے مجھے طلاق دے کر گھر سے نکال دیا‘۔

کراچی کی ایک فیکٹری میں کام کرنے والی چند خواتین کا مدعا کچھ یوں ہے ’صبح فیکٹری کی بس ہمیں گھروں سے پک کرتی ہے لیکن بس ڈرائیور کا رویہ پچھلے کئی روز سے ناقابل برداشت ہوتا جارہا ہے۔ جب بھی ہم بس میں چڑھتے ہیں، ڈرائیور اپنی پینٹ کی زپ کھول دیتا ہے‘۔

لاہور کی نذیراں کے آنسو اس لیے نہیں رکتے کہ جس دکاندار نے اس کی بارہ سالہ بیٹی کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی وہ اب بھی قانون کی گرفت سے باہر ہے۔

یہ کوئی کہانیاں نہیں ہیں بلکہ جیتے جاگتے کرداروں کی آپ بیتیاں ہیں۔ اگر جگہ اور وقت کی کمی کا مسئلہ نہ ہو تو شاید ان واقعات کی فہرست کبھی ختم نہ ہو۔

 ’پاکستان میں کئی پڑھی لکھی خواتین بھی یہ نہیں جانتیں کہ کن رویوں کا شمار جنسی ہراس میں ہوتا ہے‘
ضیاء اعوان

انسانی حقوق کے غیر سرکاری ادارے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے مطابق اس سال جنوری سے اگست کے دوران 175 خواتین کے ساتھ گینگ ریپ کیا گیا جن میں 24 کم عمر بچیاں شامل ہیں، 225 کے ساتھ انفرادی طور پر جنسی زیادتی کی گئی جن میں 38 کم سن بچیاں ہیں جبکہ دس کو سر عام برہنہ کیا گیا۔

یہ چند وہ واقعات ہیں جو پولیس کے پاس رپورٹ کیے جاتے ہیں یا پھر اخبارات میں شائع ہوتے ہیں۔ زیادہ تعداد ایسے واقعات کی ہے جو پس پردہ رہ جاتے ہیں۔

خواتین کے عدم تحفظ کا مسئلہ شہر اور گاؤں ہر جگہ اور ہر طبقے کی خواتین کا مسئلہ ہے۔ مگر بدقسمتی سے اس معاملہ کو نہ صرف معاشرہ نظر انداز کررہا بلکہ حکومت اور کچھ حد تک خواتین خود بھی اس پر بات کرنا پسند نہیں کرتیں۔

ضیاء احمد اعوان
’جنسی ہراس صرف جسمانی تشدد کا ہی نام نہیں ہے‘

کراچی میں خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم وکلاء برائے انسانی حقوق اور قانونی امداد (ایل ایچ آر ایل اے) کے صدر ضیاء احمد اعوان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کئی پڑھی لکھی خواتین بھی یہ نہیں جانتیں کہ کن رویوں کا شمار جنسی ہراس میں ہوتا ہے۔

ضیاء اعوان کے مطابق ’جنسی ہراس کا مطلب صرف جسمانی تشدد نہیں ہے بلکہ اگر کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ زبانی یا اشارۃً ایسا طریقہ اپنائے جس سے وہ عورت اپنے آپ کو جنسی طور سے غیر محفوظ تصور کرے یا جسمانی اور نفسیاتی طور پر دباؤ کا شکار ہو، ایسا رویہ جنسی ہراس میں شامل ہے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ اس میں غیر شائستہ اشارے اور مذاق، گھورنا اور دیگر ایسی ہی حرکات و سکنات بھی شامل ہیں جبکہ زنا، عصمت دری وغیرہ جنسی ہراس کی سنگین شکلیں ہیں‘۔

 کراچی کے ایک مصروف بازار میں چند مردوں سے ان کی رائے پوچھی گئی تو انہوں نے نہ صرف یہ تسلیم کیا کہ مرد عورتوں کو واقعی گھورتے ہیں بلکہ اس میں قصور وار بھی انہوں نے عورتوں کو ہی ٹھہرایا۔

سائرہ قیصر اسلام آباد میں ایک ملازمت پیشہ خاتون ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد کی یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا ہے۔ اپنی یونیورسٹی کا قصہ سناتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ بعض اساتذہ بھی اپنے مرتبے کا احترام مجروح کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے ایک پروفیسر لڑکیوں کے ساتھ غیر شائستہ سلوک کرتے تھے۔ ’ان کی ناصرف نگاہیں اور انداز ناقابل برداشت ہوتا تھا بلکہ وہ کمپیوٹر سکھانے کے بہانے اکثر لڑکیوں کو چھونے کی کوشش بھی کرتے تھے‘۔

کراچی میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم عورت فاؤنڈیشن کی پروگرام آفیسر اور ایچ آر سی پی کی رکن ملکہ خان کا کہنا ہے کہ کتنی ہی خواتین جو اپنے مالی حالات سے مجبور ہوکر کام کے لیے باہر نکلتی ہیں وہ گھر سے قدم باہر نکالنے سے لے کر رستے، دفتر غرضیکہ ہر جگہ کسی نہ کسی طرح جنسی ہراس کا شکار ہوتی ہیں۔

اسلام آباد میں ایک بین الاقوامی ادارے میں کام کرنے والی ایک لڑکی نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس کا افسر اسے بہت تنگ کررہا ہے اور بضد ہے کہ وہ اس کے ساتھ باہر کھانا کھانے اور گھومنے پھرنے جائے اور ساتھ ہی اسے تنخواہ بڑھانے اور ترقی دینے کا لالچ بھی دیتا ہے۔ اس لڑکی کا کہنا تھا کہ وہ مسلسل انکار کررہی ہے مگر وہ اب دھمکی آمیز رویہ پر اتر آیا ہے۔

عورت یا لڑکی کے گھر سے باہر قدم نکالتے ہی ان گنت نظریں اس کا تعاقب شروع کردیتی ہیں۔ یہ رویہ اس قدر عام ہے کہ خواتین اسے معاشرے کی روایات کا حصہ سمجھ کر نظر انداز کردیتی ہیں۔

ملکہ خان
عورت فاؤنڈیشن کی ملکہ خان

کراچی کے ایک مصروف بازار میں چند مردوں سے ان کی رائے پوچھی گئی تو انہوں نے نہ صرف یہ تسلیم کیا کہ مرد عورتوں کو واقعی گھورتے ہیں بلکہ اس میں قصور وار بھی انہوں نے عورتوں کو ہی ٹھہرایا۔ کم و بیش سب ہی کا یہ کہنا تھا کہ خواتین خود اپنے حلیہ اور حرکتوں سے مردوں کو ایسی حرکات پر مجبور کرتی ہیں۔

ضیاء اعوان کا کہنا ہے ’میں اکثر خواتین کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ عوامی مقامات پر دھوپ کی عینک پہنا کریں تاکہ گھورنے والے افراد کی نظروں کو نظر انداز کرسکیں‘۔

ایچ آر سی پی کے مطابق سن 2002 اور 2003 کے موازنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جنسی ہراس کے واقعات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

لیکن اس اضافے کا سبب کیا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ معاشرہ ترقی و بہتری کی جانب قدم بڑھانے کے بجائے مزید پستی میں گرتا جارہا ہے۔ ایک بڑی وجہ یہ نظر آتی ہے کہ عورتیں ان مسائل پر آواز اٹھانے کے بجائے خاموشی سے اذیت برداشت کرتی ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ یہی میں نے جاننے کی کوشش کی پاکستان کے مختلف شہروں کے سفر کے دوران انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں، اذیت کا شکار ہونے والی خواتین اور قانون ساز اداروں سے، جس کی تفصیل آپ پڑھ سکیں گے اس سلسلے کے دوسرے حصے میں۔ پاکستان میں عورتوں کے خلاف جنسی ہراس کے موضوع پر اس سلسلے کی کئی اقساط شائع کی جائیں گی جس میں کوشش کی گئی ہے کہ اس مسئلے کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا جائے۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد