BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 November, 2003, 10:11 GMT 15:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زنا کے ملزم کو تبلیغ کی سزا

ریپ کا نشانہ بننے والی ایک لڑکی کی ماں
گزشتہ سال جنوبی پنجاب کے ایک گاؤں میں پنچائت نے مختاراں بی بی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا حکم دیا تھا

چیچہ وطنی میں ایک گاؤں کے چودھریوں پر الزام لگایا گیا ہے کہ انھوں نے اجتماعی زنا میں شریک ایک ملزم کو پندرہ ہزار روپے جرمانہ اور چار ماہ دینی تبلیغ کی سزا سناکر زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکی کے خاندان کو دو ماہ تک گاؤں میں نظر بند رکھا۔

چک گیارہ /گیارہ ایل کے عبیداللہ رحمانی اور اس کی بیوی صغراں بی بی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوۓ بدھ کے روز بتایا کہ چھبیس اور ستائیس اگست کی درمیانی رات جب وہ گھر پر نہیں تھے ان کے پڑوسی ملک محمد حسین کا بیٹا ساجد دو ساتھیوں کے ساتھ دیوار پھلانگ کر ان کے گھر میں گھس آیا اور وہ ان کی بارہ سالہ بیٹی کو مویشیوں کے باڑے میں لے گئے جہاں تینوں نے اسے تین گھنٹے تک باری باری اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنایا۔

بعد میں ملزمان خون میں لت پت اور بے ہوش لڑکی کو اس کے گھر پھینک گۓ۔ لڑکی نے ہوش میں آنے پر اپنے ماں باپ کو اس بارے میں بتایا تو صبح انھوں نے ساجد کے والدین اور بعد میں تھانہ صدر سے رابطہ کیا۔

والدین کے مطابق پولیس نے ملزم کے تایا کو گرفتار کیا تو معاملہ گاؤں کی پنچائت میں چلا گیا۔ پنچایت میں شامل افراد نے جس میں مقامی نمبردار شامل تھاانہیں بلا کر ملزم کے خاندان سے صلح پر مجبور کیا اور فیصلہ دیا کہ ملزم زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکی کو پندرہ ہزار روپے جرمانے ادا کرے اور سزا کے طور پر چار ماہ تک تبلیغی جماعت کے ساتھ دورے پر جاۓ۔

والدین کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے یہ فیصلہ ماننے سے انکار کیا تو پنچائت میں شامل بااثر چودھریوں نے انہیں زبردستی صلح نامے پر انگوٹھے لگانے پر مجبور کیا اور دھمکی دی کہ اگر وہ دو ماہ تک گاؤں سے باہر گئے تو ان سب کو جان سے مار دیا جاۓ گا۔ بعد میں یہ صلح نامہ دکھا کر زیر حراست شخص کو پولیس سے رہا کرالیا گیا۔

چیچہ وطنی کے اسسٹنٹ سپرنٹیڈنٹ پولیس منیر احمد شیخ نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ جب یہ معاملہ پولیس کے نوٹس میں آیا تھا تو اس وقت لڑکی نے یہ کہا تھا کہ وہ ملزموں کو دیکھ کر بے ہوش ہوگئی تھی اور اسے معلوم نہیں کہ اس سے زیادتی ہوئی یا نہیں جبکہ لڑکی کی ماں نے اس کا طبی معائنہ کروانے سے انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ اس نے دائی سے اس کا معائنہ کرایا ہے جس نے کہا ہے کہ جنسی زیادتی نہیں ہوئی۔

پولیس افسر کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والد نے ایک تحریری بیان دیا تھا کہ ان کی دوسری پارٹی سے صلح ہوگئی ہے اوروہ کوئی کاروائی نہیں کروانا چاہتے اس لیے کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔

پولیس افسر کا کہنا ہے کہ اس مبینہ واقعہ کا کوئی چشم دید گواہ نہیں ہے اور اب دو ماہ بعد والدین نے اسے اس لیے اٹھایا ہے کہ انھیں پندرہ ہزار کی جو رقم دوسری پارٹی نے دینے کا وعدہ کیا تھا وہ نہیں ملی۔

ان کا کہنا ہے کہ بظاہرملزم لڑکی کو صرف اٹھانے کے لیے آۓ تھے اور یہاں کا کلچر ایسا ہے کہ جب کوئی کسی الزام میں پھنس جاۓ تو جان چھڑانے کے لیے اسے صلح کرنی پڑتی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد