BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 January, 2004, 15:10 GMT 20:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہراساں کرنےکا ذمہ دار کون؟

جنسی بے راہ روی کا ذمہ دار کون؟
خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے معاملے کو مختلف لوگ مختلف نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اسی موضوع پر پچھلے دنوں بی بی سی اردو ڈاٹ کام نے ایک سروے کیا تو دلچسپ آراء سامنے آئیں۔

بیشتر لوگوں کا خیال ہے کہ ہمارے معاشرے میں جنسی بے راہ روی کی بڑی وجہ مذہب سے دوری ہے، خواہ اس کی مرتکب خواتین ہوں یا مرد۔

بڑی تعداد میں لوگوں نے خواتین کے ساتھ زیادتی کی ذمہ داری میڈیا پر عائد کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کیبل نے لوگوں کی ذہنیت میں بگاڑ پیدا کیا ہے۔ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ گانے اور فلمیں دیکھنے کے رجحان میں اضافے کے باعث معاشرے میں بے راہ روی بڑھ رہی ہے۔

بلاشبہ مذہب سے دوری اس کی ایک وجہ ہوسکتی ہے کیونکہ نہ تو ہمارا معاشرہ و مذہب اور نہ ہی اخلاقی اقدار ایسی حرکات کی اجازت دیتی ہیں۔ کچھ حد تک میڈیا پر کی جانے والی تنقید بھی جائز ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ کیبل یا سیٹلائیٹ نشریات چند ہی برس قبل عام ہوئی ہیں جبکہ عورتوں کے ساتھ زیادتی کا مسئلہ بہت پرانا ہے۔

کئی لوگوں نے ناراض ہوکر یہ بھی کہا کہ ایسی کہانیاں محض پاکستانی معاشرے کو بدنام کرنے کی کوشش ہے اور یہ بے بنیاد جھوٹی باتیں ہیں۔ کئی نے پاکستانی معاشرے کا موازنہ مغرب سے بھی کیا جو میرے خیال میں غلط ہے۔ مغرب کی اخلاقی قدریں مشرق سے بالکل مختلف ہیں۔ بلاشبہ مغربی معاشرے میں جو برائیاں ہیں وہ مشرقی معاشرے کی سوچ کی حدوں کو بھی پار کرتی ہیں۔ لیکن یہاں معاملہ مرضی کا ہے۔ اور اگر مغرب میں کسی خاتوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا بھی جاتا ہے تو قانون اس خاتون کی مدد کے لئے ہر دم موجود ہے۔

پاکستان ہی سے ایک صاحب کا کہنا تھا کہ خواتین کو رشتوں سے بالاتر ہونا چاہئے۔ یعنی مردوں کی ضروریات پوری کرنے سے انہیں ہچکچانا نہیں چاہئے خواہ وہ شوہر ہو یا کوئی اور کیونکہ ایسا کرنے سے ان کا کچھ نہیں بگڑتا۔ یہاں میں یہ بھی بتادوں کہ ڈیڑھ دو سو افراد میں سے یہ صرف ایک ہی شخص کی رائے تھی۔ اس کا ذکر میں نے یوں کیا کہ اس رائے سے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات جھوٹ پر مبنی نہیں ہوتے۔

پاکستانی معاشرے میں ایک حوصلہ افزاء رجحان یہ ہے کہ اب لوگ اس معاملے پر اپنی رائے کا اظہار ماضی کی نسبت کچھ کھل کر کرنے لگے ہیں ورنہ پہلے تو اس مسئلہ کو موضوعِ گفتگو بنانا ہی محال تھا۔

کچھ خواتین نے تو اپنا نام ظاہر کئے بغیر اپنے ساتھ ہونے والے جنسی مظالم بھی بیان کئے۔

میرے خیال میں اتنے گھمبیر مسئلے کی کوئی ایک وجہ تلاش کرنا بھی بےانصافی ہوگی۔ اس میں کچھ قصور تعلیم کا اور کچھ تربیت کا بھی ہے۔ کچھ مسائل نفسیاتی ہیں جو غیر متوازن معاشرتی دباؤ سے جنم لیتے ہیں اور کچھ سوچ کی خرابی ہے۔ عورتوں کو بچپن ہی سے اعتماد کی کمی کا شکار بنانا بھی مستقبل میں ان کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ معاشرہ میں صحیح اور غلط کا بنیادی پیمانہ بھی درست نہیں ہے جو مظالم کا شکار بننے والی خواتین ہی کو قصوروار ٹھہرادیتا ہے جیسا کہ کئی لوگوں نے یہ خیال بھی ظاہر کیا کہ عورتوں کا بننا سنورنا ہی برائی کی جڑ ہے۔ اگر کہیں عورت پر زیادتی ہورہی ہے تو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس کی وجہ محض اس کا سجنا سنورنا تھا یا پھر اگر عورت بے راہ روی کا شکار ہے تب بھی ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہر عورت ہی ایسی ہے۔ کہیں تو ذمہ داری مرد پر بھی عائد کرنی ہی ہوگی۔

یہ درست ہے کہ کئی عورتیں میں ایسے جرائم میں ملوث ہوتی ہیں لیکن انہیں بنیاد بنا کر اس معاملے کو سرے سے ہی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

جیسا کہ کئی رائے دہندگان کا کہنا ہے عورتوں کی خاموشی بھی توڑنی ہوگی۔ لیکن ایسا کرنے سے پہلے یہ یقین دہانی ضروری ہے کہ اس معاملے کو انصاف کی نظر سے دیکھا جائے گا، عورت کی بدنامی نہیں ہوگی، اسے اعتماد دیا جائے گا۔ قانون اس سلسلے میں مضبوط یا موثر ہو یا نہ ہو، پہلے معاشرے کی سطح پر سوچ کے انداز میں تبدیلی لانی ہوگی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد