بکتے جسم، بکھرتے خواب اور خوف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یوکرین کی ایوانہ جسم فروشی کا کاروبار کرنے والوں کے چنگل سے بچ نکلنے کے باوجود اب بھی خوف کے سائے میں جی رہی ہے۔ مغربی یورپ تک پہچنے کے لئے ایوانہ(فرضی نام) کو جن حالات سے گزرنا پڑا اس کی داستان غلامی کے اس دور کی یاد دلاتی ہے جب لوگوں سے جبری مشقت کرائی جاتی تھی۔ یورپ میں سیکیورٹی اور تعاون کی تنظیم osce کی ہیگلہ کونارڈ کا کہنا ہے کہ انسانوں کی سمگلنگ کرنے والے گروہوں کے شکار لوگ اپنی آزادی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ان کے ساتھ مار پیٹ کی جاتی ہے اور ان کی آبرو ریزی کی جاتی ہے۔ ایوانہ نے بی بی سی ورلڈ سروس کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ کس طرح اس نے بیرون ملک ویٹرس کی ملازمت کے وعدے پر یوکرین میں اپنا گھر چھوڑا ۔ تقریباًً بیس بائیس سال کی ایوانہ کو برطانیہ کے شہر برمنگم میں لاکرجسم فروشی کے دھندے میں لگا دیا گیا۔ برطانیہ کی پولیس کے مطابق ملک بھر کے قحبہ خانوں میں اسمگل کرکے لائی گئی عورتوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ایوانہ نے بتایا کہ ایک گروہ نے اس کو اغوا کرکے یوروپ پہنچایا تھا۔یونان میں اسے ایک البانوی شخص کو فروخت کر دیا گیا جو اسے اٹلی کے راستے برطانیہ لیکر آیا۔ ایوانے بتایا’ جب اس شخص نے پہلی مرتبہ میرے ساتھ زبردستی کی تو میں نے خود کو بچانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ بہت لحیم شحیم شخص تھا میں کچھ نہ کر سکی‘۔ ایوانہ کا کہنا تھا کہ وہ شخص اس کو دیوانوں کی طرح لاتوں گھوسوں اور بیلٹ سے مارتا تھا۔ اور اسے ہر روز سات یا اس سے زیادہ گاہکوں کے پاس جانا پڑتا تھا اور مہینے کے پورے تیس دن یہی سلسلہ رہتا تھا۔ اور بدلے میں رقم تو دور کی بات کئی مرتبہ کھانا تک نہیں دیا جاتا تھا۔ ایوانہ نے بتایا کہ ایک دن اس کے ساتھ بہت بری طری مار پیٹ کی گئی وہاں صفائی کے لئِے آنے والی ایک عورت کو اس کی اس حالت پر رحم آیا اور اس نے وہاں سے بھاگنے میں ایوانہ کی مدد کی۔ ایوانہ نے کہا ’میں بہت خوفزدہ ہوں کیونکہ میں جانتی ہوں کہ اگر میرے دلال نے مجھے پکڑ لیا تو وہ مجھے مار ڈالے گا۔ اوانہ نے جب اپنا ملک چھوڑا تھا تو سوچا تھا کہ وہ بیرن ملک جاکر کچھ پیسہ کمائے گی تاکہ اپنے اور اپنے بیٹے کے لئے ایک گھر خرید سکے۔لیکن اس کا یہ خواب ادھورا رہ گیا۔
ہیگلہ کونارڈکا کہنا ہےکہ کئی مرتبہ لڑکیوں کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہیں جسم فروشی کے دھندے میں لگایا جائے گا۔ لیکن ان کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے اور جس طرح ان سے کام لیا جاتا ہے اس کا انہوں نے تصور تک نہیں کیا ہوتا۔ ایک سابق اسمگلر نےجو اس وقت حکام کے ساتھ کام کر رہا ہے اور اسے خفیہ مقام پر رکھا گیا ہے بتایا کہ اس طرح کے گروہ کس طرح کام کرتے ہیں ۔ اکثر اس کام کے لئے پیشہ ور جسم فروشوں کو رکھا جاتا ہے لیکن کئ مرتبہ عورتوں اور بچوں کو اغوا بھی کیا جاتا ہے۔ اس شخص نے بتایا کہ بچوں کو اٹلی میں فروخت کر دیا جاتا ہے اور خوبصورت عورتوں کو جسم فروشی کے دھندے میں لگایا جاتا ہے۔اور اسمگل شدہ مردوں کو ان کی مرضی کے مطابق ان ملکوں میں بھیج دیا جاتا ہے جہاں وہ کام کی غرض سے جانا چاہتے ہیں۔ اس نے بتایا کہ 18 ماہ تک کے بچے کواغوا کیا جا چکا ہے۔بیمار اور کمزور بچوں کو بھکاری بنانے کے لئے فروخت کیا جاتا ہے۔اور صحت مند بچوں کو مافیا میں شامل کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔جن سے منشیات کی اسمگلنگ یا قتل جیسے کام لئے جاتے ہیں۔ ان بچوں سے اپنی بات منوانے کے کئی طریقے اپنائے جاتے ہیں ان کے ساتھ مار پیٹ کی جاتی ہے اور کئی مرتبہ ان کو یہ دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر انہوں نے بات نہیں مانی تو ان کے گھر والوں کو نقصان پہنچایا جائے گا۔
یہ سابق اسمگلر اس وقت سرکاری گواہ بن کر بیان دینے کی تیاری کر رہا ہے۔اس کا دعوی ہے کہ یہ گروہ اعلی سطح کے افسران کو رشوت دیتے ہیں۔یہ سابق اسمگلر ابھی اس تنظیم کی پناہ میں ہے جو سماجی ترقی کے حق میں اور بدعنوانیوں کے خلاف مہم چلاتی ہے۔ اس سلسلے میں دو ملکوں پر خاص نظر رکھی جا رہی ہے جن میں سے ایک مغربی یورپ میں اور دوسرا مشرقی یورپ میں ہے۔ تنظیم کے رکن منیر پودوماک نے بتایا کہ اس شخص نے جو اطلاعات فراہم کی ہیں اس کے مطابق پانچ ملکوں میں یہ نیٹورک کام کر رہا ہے۔اور اس بات پر زور دیا کہ حکام اس سلسلے میں مدد کنے میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||