ثقافتی طائفوں کی آڑ میں انسانی سمگلنگ؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانوں کی سمگلنگ کے واقعات تو دنیا بھر میں ہو رہے ہیں مگر پاکستان میں ان سرگرمیوں سے متعلق کچھ زیادہ ہی شکایات مل رہی ہیں۔ قابلِ افسوس بات یہ ہے کہ ایسے کچھ واقعات میں شوبز سے وابستہ افراد بھی ملوث بتائے جاتے ہیں۔ یہ لوگ ثقافتی طائفوں کی آڑ میں لوگوں کو بیرون ملک لے جاتے ہیں اور وہاں پر انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیتے ہیں جو وہاں پر چھپ کر رہتے ہیں اور پکڑے جانے پر پاکستان کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ ایف آئی اے لاہور کو ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں انسانوں کی سمگلنگ کے حوالے سے دو کیس ملے ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ دونوں واقعات میں شوبزنس کے لوگ ملوث ہیں۔ چند روز قبل معروف فلم سٹوڈیو ایورنیو سے پنجا بی فلم ’دل ٹوٹے ٹوٹے ہوگیا‘ کے پروڈیوسر دو بھائیوں ریاض گجر اور شہزاد گجر کو ایف آئی اے نے انسانوں کی سمگلنگ کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ باخبر ذرائع کے مطابق جب ایف آئی اے کے حکام نے ایورنیو سٹوڈیو میں واقع گجر برادران کے دفتر پر چھاپہ مارا اور ریاض گجر اور شہزاد گجر کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تو وہاں پر موجود گجر برادران کے ساتھیوں نے سخت مزاحمت کی لیکن ایف آئی اے کے اہلکاروں نے دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
اطلاعات کے مطابق لاہور کے دو افراد سیماب بخاری اور ہاشم رضا نے ایف آئی اے پاسپورٹ سرکل کو درخواست دی تھی کہ ریاض گجر اور شہزاد گجر نے انہیں امریکہ اور کینیڈا پہنچانے کی پیشکش کی اورکہا کہ ان کے امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ میں گوروں سے اچھے تعلقات ہیں لہذا وہ ہمیں فلم کی شوٹنگ کے بہانے ویزا دلوا کر کینیڈا بھجوا دیں گے۔ چنانچہ ہم نےگجر برادران کو لاکھ روپے ادا کر دیئے مگر انہوں نے ہمیں کینیڈا نہیں بھجوایا۔ ایف آئی اے لاہور کو انسانی سمگلنگ کے حوالے سے جو دوسرا کیس ملا اس میں ٹیلی ویژن اور سٹیج کے معروف فنکار پرویز رضا کو ملوث کیا گیا۔ ایف آئی اے کے حکام نے گجرات کے ایک شہری کی درخواست پر پرویز رضا کو گرفتار کر لیا۔ تقریباً ایک ماہ بعد ان کی ضمانت ہوئی۔ پرویز رضا اور ان کی بیوی صبا رضا افق نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنایا گیا۔ ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ پرویز رضا اور گجر برادران کے علاوہ اور بھی بہت سے ایسے گلوکار، اداکار، رقاصائیں اور پروموٹرز ہیں جن کے خلاف انسانوں کی سمگلنگ کی شکایات ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔ جونہی تحقیقات مکمل ہوجائیں گی ان کے خلاف کارروائی شروع کر دی جائے گی۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ماضی میں بھی انسانی سمگلنگ کے واقعات میں شوبز اور سپورٹس کی دنیا کی شخصیات ملوث رہی ہیں۔ انسانوں کی سمگلنگ کے حوالے سے ہمسایہ ملک بھی ہم سے پیچھے نہیں اور وہاں پر بھی شوبز کی شخصیات اس فیلڈ میں پیش پیش ہیں۔ معروف بھارتی گلوکار دلیر مہدی کے خلاف انسانوں کی سمگلنگ کے متعدد کیسز چل رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||