’خواتین کے عالمی اعلامیے‘ پاکستان میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عورتوں کےعالمی اعلامیے کے ساتھ بھارتی خواتین کا وفد پاکستان کے تجارتی دارالحکومت کراچی پہنچا ہے۔ جہاں سے اس اعلامیہ کو پاکستانی خواتین آذر بائیجان لے جائینگی۔ بھارت سے آنے والے گیارہ رکنی وفد کی سربراہی نیشنل الائنس فاروومین کی چئرپرسن ششی سائل کررہیں ہیں۔ خواتین کے بین الاقوامی اعلامیے کا عالمی مارچ اس سال آٹھ مارچ کو برازیل کے شہر سان پولو سے شروع ہواتھا۔ جو برما اور تھائی لینڈ سے ہوتا ہوا بھارت پہنچا جہاں سے اسے پاکستان لایا گیا۔ یہاں سے اعلامیہ آذر بائیجان اور پھر سترہ اکتوبر کو افریقہ کے چھوٹے سے ملک بھارت کی نیشنل الائنس فاروومین کی چیرپرسن ششی سائل نے بتایا کہ عورتوں کا عالمی اعلامیہ تمام مرد و عورت سماجی تحریکوں اور سول سوسائیٹیوں اور ان تمام لوگوں کے درمیان اتحاد کی آواز دیتا ہے جو اس کرہ ارض کو تبدیل کرنے کا خواہشمند ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی مارچ کے ذریعے ہم نے عورتوں کے خلاف تشدد اور غربت کے خلاف جدوجہد میں اپنی کوشش کو یکجا کرنے کے لیے قدم بڑھایا ہے۔ ہم نے عورتوں اور مردوں کے درمیان غیر مساوی رویوں کے خلاف اقدمات کا مطالبہ کیا اور عالمی مالیاتی اداروں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے اہلکاروں کو اپنی تجاویز ارسال کی ہیں۔ اقوام متحدہ سے بھی رجوع کیا مگر ان اداروں کے منفی رویوں نے ہمیں مایوس کیا ہے۔ بھارت کی خاتون رہنما نے کہا کہ ہماری پیش کردہ تجاویز ناقابل واپسی ہیں۔ ہمارا اعلامیہ دنیا کی خوبصورتی رنگینی اور پیار کا مظہر ہے۔ پاکستان اور بھارت کی خواتین کے بارے میں انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک میں ان کی حالت ایک جیسی ہے۔ بھارت میں بھی غیرت کے نام پر عورتوں کو قتل کیا جاتا ہے۔ بھارتی وفد اور پاکستان میں حقوق نسوان کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے کراچی میں ایک امن مارچ بھی کیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||