BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی فضائیہ میں خواتین دستہ

کیڈٹ صبا خان
کیڈٹ صبا خان
پاکستانی معاشرے میں خواتین کو اپنے تمام جائز حقوق ملنا تو شاید ابھی دور کی بات ہے لیکن حکومت پاکستان نے گزشتہ چند برسوں میں مختلف شعبوں میں انہیں آگے لانے پر خصوصی توجہ دی ہے اور بعض پالیسیاں بھی مرتب کی ہیں۔

خواتین کے لیے اب فضائیہ میں بھی شامل ہونے کے مواقع پیدا کیے گئے ہیں۔ جس کے تحت پاکستان فضائیہ نے ’ایرو سپیس انجنیئرنگ‘ اور ’فائیٹرپائلٹ‘ کے پروگراموں میں خواتین کو شامل کیا گیاہے، جوکہ اس ضمن میں اپنی نوعیت کا ایک انوکھا پروگرام ہے۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پاکستان فضائیہ میں بھرتی ہونے والی خواتین اپنی تربیت کے اس مرحلے میں پہنچ گئی ہیں جہاں وہ اپنے طور پر جیٹ جہاز اڑا رہی ہیں۔

News image
خواتین کے پہلے دستے یا بیچ نے تربیت کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیا ہے
رسالپور میں پاک فضائیہ کی تربیت گاہ جو پچھلے پچپن سال سے صرف مردوں کا عسکری کا ادارہ تھی، اب ایک بہت بڑی تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے۔

گزشتہ کئی سال کے دوران سینکڑوں کیڈٹس نے یہاں سے فوجی تربیت حاصل کی لیکن اچانک اب یہ اندازہ ہوا کہ اس نامور ادارے تک پہنچنے کے لیے صرف مرد ہونا ضروری نہیں۔

اور اب ناصرف خواتین پاک فضائیہ میں شامل ہو سکتی ہیں بلکہ کچھ نے تو یہ کر بھی دکھایا ہے کہ اس وقت پاک فضائیہ کے ہوا بازی کہ شعبے کے دو دستوں (سکواڈز) میں دس خواتین شامل ہیں اور بہت سی خواتین اب ایرو سپیس انجنیرئنگ میں مردوں کے ساتھ مقابلے میں شریک ہیں۔

حالانکہ کہ پاک فضائیہ کی تربیت گاہ میں یہ زیر تربیت خواتین کیڈٹس تعداد میں بہت کم ہیں لیکن تربیت دینے والے عملے اور زیر تربیت مرد کیڈٹس کا کہنا ہے کہ ان کی موجودگی کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔

ماضی قریب تک اس روایتی معاشرے میں ایک خاتون لڑاکا جہاز اُڑانے والے پائلٹ سے شادی کے بارے میں تو سوچ سکتی تھی، لیکن ہوا باز بننے کے کیے ایک خاتون کی حوصلہ افزائی کبھی نہ کی جاتی۔

لیکن اس کا اطلاق صبا خان پر نہیں ہوتا جو اُن چار خواتین کیڈٹس میں سے ایک ہیں جنہوں نے اس اکیڈمی میں اپنی تربیت کا پہلا اور سخت ترین مرحلہ عبور کر لیا ہے۔ ایک سال کے تربیت کے بعد اب یہ جیٹ طیارہ اُڑا سکتی ہیں۔

ان کا تعلق قدامت پرست صوبہ بلوچستان کے ضلع کوئٹہ کے ایک روشن خیال خاندان سے ہے، صبا کو اُن کے ایک چچا نے بہت متاثر کیا جو پاک فصائیہ میں تھے۔
صبا کا کہنا تھا کہ اخبارات میں خواتین کی پاک فضائیہ میں بطور کیڈٹ شمولیت کا اشتہار پڑھ کر انہیں یوں لگا جیسے ان کے خوابوں کی تعبیر کا وقت آ گیا ہے۔

رسالپور
اب اس نامور ادارے تک پہنچنے کے لیے صرف مرد ہونا ضروری نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں ہمیشہ سے لڑاکا جہاز کی پائلٹ بننا چاہتی تھی، اور پھر اللہ کی مہربانی اور میرے والدین کی حوصلہ افزائی سے میں اس مقام تک پہنچی ہوں۔‘

صبا کو یقین ہے کہ اُن کے یہ تربیت مکمل کرنے سے دوسری بہت سی لڑکیوں کی بھی ہمت بندھے گی اور وہ بھی اس طرف آ سکیں گی۔

خوشی سے دمکتی ہوئی ایک اور خاتون پائلٹ عنبرین گِل کا کہنا تھا کہ اُن کے لیے یہ انتہائی مشکل ہے کہ وہ اپنے اُن جذبات کا اظہار کر سکیں، جو انہیں پہلی بات تربیتی جہاز اڑاتے ہوئے محسوس ہوئے تھے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ وہ بہت جلد خود جٹ جہاز اُڑا سکیں گی اور شاید کسی موقع پر سب سے شاندار لڑاکا جہاز ایف سولہ کو بھی۔

رسالپور میں پاک فضائیہ کی یہ تربیت گاہ ابھی تک مرد کیڈٹوں کے غلبے میں ہے اور یہ بتانا مشکل ہے کہ مرد کیڈٹز ان خواتین کیڈٹز کی اس تربیت گاہ میں شمولیت کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ سرکاری طور پر زیادہ تر نے اس قدم کو خوش آئند قرار دیا ہے لیکن دوران گفتگو ایک مرد کیڈٹ نے کہا کہ ہمیں خواتین کیڈٹ سے ہمدری کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔

خاتون کیڈٹ سمن احمد نے اس کے ردعمل میں فورًا کہا کہ وہ یہاں برابری کی سطح پر مقابلے کے لیے آئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نہ تو ہمدردی کی توقع کرتے ہیں، ہمارے لیے نا تو ہمددری ظاہر کی جائے اور نا ہی ہمیں ہمددری چاہیے۔‘

اور اُن کا یہ اعتماد بلاجواز بھی نہیں ہے، سمن احمد انجینئرنگ کے شعبہ میں ہیں اور اُنہوں نے نصبابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں اپنے ساتھی مرد اور خواتین کیڈٹز میں بہتر کارگردی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کا واضع اظہار اس وقت ہوا جب نشانہ بازی کی ایک مشق کے دوران اُن کی پانچوں گولیاں ٹھیک نشانے پر لگیں۔

پاک فضائیہ کی اکیڈمی سے وابستہ سینئر افسروں کا کہنا تھا کہ مسلح افواج کی لڑاکا یونٹس میں خواتین کی شمولیت بے شمار ممالک کے لیے ایک مشکل فیصلہ رہا ہے اور پاکستان میں تو اس طرح کے فیصلے کرنے میں بہت سی دشواریاں درپیش تھیں۔

ہمارے لیے مسئلہ صرف یہی نہیں تھا کہ خواتین جسمانی طور پر مردوں کے مقابلے میں کمزور ہیں بلکہ اس کے علاوہ ثقافتی اور مذہبی معاملات کو بھی مدنظر رکھنا تھا۔

پاک فضائیہ رسالپور اکیڈمی کے سربراہ ائیر وائس مارشل انعام الحق نے یہ تسلیم کیا کہ اس پروگرام کا اجراء کرتے وقت اُن کو ثقافتی احساسات کو بھی مدنظر رکھنا پڑا۔ تاہم اُن کا کہنا تھا کہ یہ اچھا تجربہ رہا ہے اور کچھ خواتین کیڈٹز اُن کی توقع سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں۔

ثقافتی احساسات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاک فضائیہ کی یہ اکیڈمی ایک حد تک دونوں اصناف کے کیڈٹوں میں علیحدگی برقرار رکھی جاتی ہے۔ اگرچہ یہ خواتین کیڈٹس صبح کی پریڈ مردوں کے شانہ بشانہ کرتی ہیں لیکن ٹریننگ کے کچھ حصے خاص طور پر جسمانی ورزش علیحدگی میں کرتی ہیں۔

سکوارڈن لیڈر شازیہ کا کہنا تھا کہ یہ نہایت ضروری ہےکہ اس حد تک علیحدگی رکھی جائے کیونکہ یہ مسلم معاشرہ ہے۔

وہ پیشے کے اعتبار سے ماہر نفسیات ہیں اور خواتین کیڈٹس کے اُمور کی سربراہ ہیں اُن کا مزید کہنا ہے کہ اس طرح علیحدہ تربیت سے اُن میں اعمتاد آتا ہے جو بعد میں بڑے چیلنجز کا سامنا کرنے میں ان کے لیے مددگار ثابت ہوتا ہے لیکن معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، خواتین کو بھی مردوں جیسی کارکردگی دکھانی پڑے گی، دوسری صورت میں اُنہیں پروگرام چھوڑنا پڑے گا۔

ائرمارشل انعام الحق کا کہنا تھا کہ پاک فضائیہ خواتین کی لڑاکا افواج میں شمولیت کے خلاف کبھی بھی نہیں رہی اور اب تو ہم ایک قدم اور اگے بڑھ چُکے ہیں اور یہ خواتین لڑاکا ہوا باز بھی بن رہی ہیں۔

News image
پاکستانی فضاییہ کا نشان، شاہین

لیکن اُن کا بھی یہ کہنا تھا کہ یہ وقت بتائے گا کہ اس دشوار پیشے میں خواتین کیا آئندہ بھی آتی رہیں گی یا نہیں۔

ابھی تو یہ نظر آتا ہے کہ چند ایک خواتین جو ابھی اس پروگرام میں شامل ہیں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں اور اگر ایک سال کے عرصے میں یہ سب اچھے طریقے سے ہو جاتا ہے اور موجودہ سکواڈرن اپنی تربیت مکمل کر لیتا ہے تو یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی لڑاکا ہوا باز خواتین ہونگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد