بھارتی خواتین نشانے بازی میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستانی خواتین ہر شعبے میں اپنا نام روشن کر رہی ہیں ۔ اور اب اپنی حفاظت اور شخصیت کو مضبوط بنانے کے مقصد سے خواتین بندوق اور تیر کمان چلانے کی تعلیم بھی حاصل کر رہی ہیں۔ نوابوں کے شہر لکھنؤ سے چند کلومیٹر کی دوری پر ایک چھوٹے سے گاؤں ماٹن پوروا میں آر کے نارنگ نے پانچ برس قبل ایک شوٹنگ رینج کی شروعات کی تھی۔ آر کے نارنگ کی یہ رینچ اتر پردیش ریاست کی رائفل اسوسی ایشن سے تعلق رکھتی ہے۔ شوٹنگ رینچ کے بارے میں مسٹر نارنگ نے بتایا کہ وہاں ہر طبقے اور عہدے کے افراد اپنا شوق پورا کرنے آتے ہیں ۔ انکا کہنا تھا کہ یہاں ہر خاص و عام کو مفت میں نشانے بازی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ لیکن سب سے زیادہ توجہ خواتین پر دی جاتی ہے۔ مسٹر نارنگ نے کہا ’ یہ رینج میرے والد کیسر نارنگ کے نام سے منسوب ہے ۔ وہ خواتین کے حقوق کے بہت بڑے حامی تھے اسی لئے یہاں انہیں خاص ترجیح دی جاتی ہے‘۔ مسٹر نارنگ نے اس رینج کی شروعات سن دوہزار میں کی تھی ۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی دنوں میں سیکھنے والوں کی تعداد کافی کم تھی لیکن فی الوقت ان کے پاس اسّی افراد ہیں جن میں سے زیادہ تر خواتین ہیں ۔ 72 سالہ رضیہ خان اپنی بیٹی اور بہو کے ساتھ نشانے بازی سیکھنے آتی ہیں ۔ انکا یہ شوق تقریبا 50 برس قبل شروع ہوا تھا۔ انکے شوہر فوج میں تھے جس کے سبب انہیں نشانے بازی میں اپنے جوہر دکھانے کا موقع ملا۔ رضیہ نے نشانے بازی میں کئی خطاب حاصل کئے ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’ نشانے بازي کا کھیل ہم خواتین کو ہمت اور قوت دیتا ہےاور ایسا کوئی شعبہ نہیں ہے جہاں عورتوں نے اپنی پہچان نہ بنائی ہو تو وہ نشانے بازی کی دوڑ میں پیچھے کیوں رہیں‘۔ دوسری جانب چند برس قبل نشانے بازی کی تعلیم شروع کرنے والی ڈاکٹر خورشید جہاں کا کہناہے کہ انہیں یہ کھیل خود کی حفاظت کرنا سکھاتا ہے۔ نشانے بازی جہان خواتین کے لئے اپنی حفاظت اور شوق پورا کرنے کا ذریعہ ہے وہیں مردوں کے لئے یہ انکی دن بھر کی تھکان دور کرنے کا طریقہ ہے۔ سرکاری اہلکار مسٹر پانڈے شوٹنگ رینج کے مقام سے کچھ دوری پر رہتے ہیں مسٹر پانڈے نے کہا ’ میں ہر عام شخص کی طرح یہاں آتا ہوں اور چند گھنٹے تک نشانے بازی کے بعد جب گھر واپس جاتا ہوں تو تمام دماغی پریشانیوں سے دور اپنے آپ کو تروتازہ محسوس کرتا ہوں‘۔ بارہ سالہ انکیتہ سنگھ ایک پولیس اہلکار کی بیٹی ہیں انکی بڑی بہن آکانشہ نشانے بازی میں قومی سطح کی کھلاڑی ہیں۔ انکتہ نے بتایا کہ ان کے والد بچپن ہی سے دونوں بہنوں کو نشانے بازی کی تعلیم دیتے تھےاور دھیرے دھیرے نشانے بازی میں انکا شوق پیدا ہو گیا۔ شوٹنگ یعنی نشانے بازی اولمپکس کھیلوں میں شامل ہے اور خواتین اس کھیل کے ذریعے نہ صرف اپنا شوق پورا کرتی ہیں بلکہ اپنی حفاظت بھی کرہی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||