الٹراساؤنڈ اور جنسی ہلاکتیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے بعض علاقوں میں خواتین کی تعداد اتنی کم ہے کہ لڑکوں کو شادی کرنے کے لئے دلہن کی تلاش بہت دور دور تک کرنی پڑتی ہے۔ ریاست پنجاب اس سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔ یہاں دس لڑکوں کے مقابلے میں صرف آٹھ لڑکیاں ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پنجاب میں اس غیرمتناسب شرح کی وجہ یہ ہے کہ یہاں لڑکوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس معاشرتی ترجیح کی وجہ سے پیدائش سے قبل بچوں کی جنس معلوم کرنے اور بچیوں کو پیدائش سے پہلے ہلاک کرنے (رحم کشی) کا رواج چل پڑا ہے۔ اس طرح ایک اندازے کے مطابق پنجاب میں لگ بھگ دس لاکھ جنسی ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ بھارت میں والدین لڑکیوں کو سر پر ایک بوجھ سمجھتے ہیں، اس لئے نہیں کہ شادی کے وقت جہیز دینے کی فکر ہوتی ہے بلکہ اس لئے بھی کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نسل لڑکوں کے ذریعے چلتی ہے۔ ہندو مذہب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ والد کے آخری رسوم بیٹا ادا کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طبی معائنے یعنی الٹراساؤنڈ کے ذریعے پیدائش سے قبل بچوں کی جنس معلوم کرنا دیہاتوں میں عام بات ہوگئی ہے اور اگر اس روِش کو نہیں روکا گیا تو لگ بھگ سات ملین لڑکیاں آئندہ دو عشروں میں ماری جائیں گی۔ اس مسئلے کے بارے میں آگہی پھیلانے کے لئے بین الاقوامی امدادی ادارے ’پلان‘ نے بھارتی حکومت کے ساتھ مل کر ’آتم جا‘ نامی ایک ڈرامہ بنانے کا منصوبہ تیار کیا۔ پلان کے لوگوں کا خیال ہے کہ بالی وُڈ کی طرح اسے فلماکر لوگوں کو دکھانا زیادہ مؤثر ہوگا۔ تیرہ قسطوں پر مبنی اس ڈرامے میں پیدائش سے قبل طبی ٹیسٹ کے ذریعے بچوں کی جنس معلوم کرنے پر قانونی پابندی، غربت، خواتین کے حقوق، جہیز مخالف قوانین، خواتین کے خلاف تشدد وغیرہ جیسے مسائل کو دکھایا گیا ہے۔
اس کی مرکزی کردار ممتا ہے جس کے خاندانوں والے یہ معلوم ہونے پر کہ اس کے کوکھ میں بچی ہے، چاہتے ہیں کہ وہ قبل از وقت آپریشن کرائے۔ انہیں امید ہے کہ بچی اس قبل از وقت آپریشن کے دوران ہلاک ہوجائےگی۔ لیکن ممتا ڈاکٹر کو رشوت دیتی ہے کہ بچی اگر بچ جائے تو اسے یتیم خانہ لے جایا جائے۔ بعد میں ممتا کو جب اس کا شوہر اسے جنس معلوم کرنے کے لئے طبی ٹیسٹ کے لئے کہتا ہے تو وہ اسے چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔ پلان کی شیرون گولڈز کا کہنا ہے کہ بھارت جیسے ایسے معاشرے میں، جہاں فلمیں اور ٹی وی سیریز مقبول ہیں، ان کا یہ ڈارمہ لوگوں تک پیغام پہنچانے میں کامیاب رہے گا۔ شیرون گولڈز کے ساتھ کام کرنے والے سمیر شاہ کا کہنا ہے کہ ملک میں لڑکے۔لڑکیوں کا تناسب خطرناک حد تک متاثر ہورہا ہے۔ انیس سو اکانوے میں ایک ہزار لڑکوں کے مقابلے میں صرف نوسو پینتالیس لڑکیاں تھی، یہ تعداد دو ہزار ایک تک صرف نو سو ستائیس رہ گئی۔ سمیر شاہ کا کہنا ہے کہ اگر ان دس برسوں کے اندر رحم کشی کے واقعات کی تعداد کا حساب لگایا جائے تو پنجاب میں رحم کشی کے ذریعے کم سے کم ایک ملین لڑکیوں کو پیدائش سے قبل ہلاک کردیا گیا۔ اس وقت پنجاب میں ایک ہزار لڑکوں کے مقابلے میں صرف سات سو ترانوے لڑکیاں ہیں۔ ریاست ہریانہ کا جنسی شرح بھی کافی خطرناک حد تک غیرمتناسب ہے۔ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن اس ’سماجی شیطان‘ کے خلاف مہم چلانے کے لئے کوشاں ہے اور بین الاقوامی اداروں کی مدد طلب کررہا ہے۔ ایسو سی ایشن کی ڈاکٹر سادرا جین کہتی ہیں کہ قانونی پابندی کے باوجود پیدائش سے قبل طبی ٹیسٹ کے ذریعے بچوں کی جنس معلوم کرکے لڑکیوں کی رحم کشی جاری ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ڈاکٹر بھی یہ غلط کام کرنے کے لئے تیار ہیں جو ’قابل مذمت‘ ہے۔ عام شہریوں کا کہنا ہے کہ تیرہ قسطوں پر مشتمل ٹی وی ڈرامہ کامیاب ہوسکتا ہے اور لوگوں کی سوچ میں تبدیلی آئے گی۔ پچیس سالہ اروندھتی، جو کہ ایک بچے کی ماں ہے، کہتی ہے: ’کاش کہ میری ساس نے یہ فلم دیکھی ہوتی۔ لیکن اب میرے اندر اتنی طاقت آگئی ہے کہ اگر میرے ساتھ ایسا ہو تو میں مخالفت کرسکوں۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||