لڑکیاں کہاں ہیں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کینیڈا میں حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ اس وقت کم و بیش دنیا کے چالیس ملکوں میں جاری جنگوں کے محاذوں پر لڑکیاں بھی شریک ہیں۔ حقوق و جمہوریت نامی اس تنظیم کا کہنا ہے کہ محاذ جنگ پر بھیجی جانے والی ان لڑکیوں میں سے اکثر کی عمریں اٹھارہ سال سے بھی کم ہیں۔ تنظیم کے مطابق ان میں سے اکثر لڑکیوں کو اغواء کیا گیا ہے اور انہیں ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑا کہ ان کے پاس حکومتی افواج یا باغیوں کے گروہوں میں شرکت کے سوا کوئی اور راستہ نہیں تھا۔ اس کے علاوہ ان لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی ایک عام سے بات ہے۔ ’لڑکیاں کہاں ہیں‘ کے عنوان سے شائع کی جانے والی اس رپورٹ میں اس تنظیم نے جو خاص طور پر شمالی یوگنڈا، سیرا لیون اور موزمبیق کے حالات پر نظر رکھتی ہے کہا ہے کہ ان لڑکیوں کو باربرداری، باورچی اور جبری بیویوں کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے اور کسی طرح کا کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا۔ رپورٹ کے مطابق خاص طور پر شمالی یوگنڈا میں حزب اختلاف کی مزاحمتی گروہوں کی افواج کا بڑا حصہ اغوا کیے گئے بچوں پر مشتمل ہے اور ان میں ایک تہائی لڑکیاں ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ جب یہ لڑکیاں ان جنگوں سے نجات پائیں تو ان کی تعلیم کا کوئی بندوبست ہو اور انہیں مختلف النوع پیشہ ورانہ تربیت حاصل کرنے کے مواقع ملیں تا کہ وہ ایک نئی زندگی شروع کر سکیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||