| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’دہشت گرد‘ بچیوں کو سزا
مراکش میں ایک عدالت نے دو جڑواں بہنوں کو دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔ چودہ سالہ جڑواں بہنوں پر الزام ہے کہ انہوں نے مراکش کی پارلیمنٹ، شراب بیچنے والی ایک سپر مارکیٹ اور شاہی خاندان کے خلاف خودکش بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔ ان کی ایک ہم عمر ساتھی کو ان کا شریک جرم ہونے کے الزام سے بری کر دیا گیا۔ ان تینوں لڑکیوں کو اٹھارہ دیگر افراد کے ساتھ دہشت گردی کی کارروائیوں کو منصوبہ بندی کے الزام میں اسی ماہ کے شروع میں گرفتار کیا گیا تھا۔ صفائی کے وکلاء کے مطابق دونوں بہنوں نے حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام کو تسلیم کیا ہے۔ لیکن وکلاء نے عدالت سے استدعا کی کہ کیونکہ لڑکیاں نے ایک مشکل سماجی پس منظر میں پرورش پائی ہے اس لئے ان سے نرمی برتی جائے۔ یہ مقدمہ مئی میں کاسابلانکا میں شدت پسند حملے کے بعد اسلامی شدت پسندوں کے خلاف شروع کی جانے کارروائیوں کی تازہ ترین مثال ہے۔ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں نے ایک ہزار سے زائد اسلام پسندوں کے خلاف درج کئے جانے والے مقدمات کی سماعت کے سلسلے میں روا رکھی جانے والی عجلت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ گزشتہ جمعے کو یہ بات سامنے آئی تھی کہ ان لڑکیوں نے مراکش کے شاہ محمد اور ملک کے شاہی خاندان کے دیگر افراد کے خلاف خود کش حملے کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ مراکش کے حکام کے فیصلے کی روشنی میں لڑکیوں کے خلاف مقدمے کی سماعت دیگر ملزمان سے علیحدہ بندی کمرے میں ہوئی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||