جنسی اشتہارات پر پابندی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی کے اخبارات اور میگزین اب فحش ، فلم ، تصاویر یا مساج پارلرز کے لئے ایسے اشتہارات شائع نہیں کر سکیں گے جو جنسی اشتہا بڑھانے اور جسم فروشی کو فروغ دینے کا باعث بنتے ہیں۔ یہ فیصلہ گزشتہ دنوں ہائی کورٹ نے ایک خاتون پروفیسر کی جانب سے دائر کردہ مفاد عامہ کی عرضداشت سننے کے بعد دیا۔ ممبئی ایک تجارتی شہر ہے اور فلم کا مرکز ہونے کے سبب اسے بین الاقوامی حیثیت بھی حاصل ہے ۔ تجارت اور تفریح کی غرض سے لوگ ہندوستان کی دیگر ریاستوں اور دنیا کے مختلف ملکوں سے یہاں آتے ہيں اور شہر میں خفیہ طور پر جسم فروشی کا کاروبار خاصا پھیلا ہوا ہے۔حال ہی میں پولیس نے ایک فائیو اسٹار ہوٹل پر چھاپہ مار کر چند لڑکیوں اور گاہکوں کو بھی گرفتار کیا تھا۔ اب مساج پارلر کی آڑ میں یہ کاروبار جاری ہے۔ شہر کے کئی بیوٹی پارلرز جو دن میں محض خواتین کے لئے ہوتے ہیں شام ہوتے ہوتے وہ مساج پارلر بن جاتے ہیں۔ شہر کے کئی بڑے اخبار کے کلاسیفائڈ اشتہا رات میں ان کے اشتہار کچھ اس طرح شائع ہوتے ہيں ، ’ان کے یہاں خوبصورت اور دلکش ہندوستانی ترکی اور روس نژاد لڑکیاں موجود ہیں جن کی مشاق انگلیاں آپ کو کیف و سرور کی الگ ہی دنیا میں لے جائيں گی۔‘ سوشل سروس برانچ جو اس طرح کی سماجی برائیوں پر روک لگانے والا پولیس کو ایک محکمہ ہے اس کے انسپکٹر وجے جوشی کا کہنا ہے کہ حال میں انہوں نے گجراتی زبان کے شام کے ایک اخبار کے خلاف فحش تصویر شائع کرنے پر کاروائی کی تھی ان کا کہنا ہے کہ وہ مساج پارلر میں غلط کاموں کی اطلاع ملنے کے بعد فرضی گاہک کو بھیچ کر پہلے تصدیق کرتے میں پھر اسپیشل پولیس آفیسر کی ماتحتی میں وہاں چھاپہ مارا جاتا ہے۔ جنوبی ممبئی میں میٹرو بیوٹی پارلر کی مالکن منیرہ سوتاریہ کہتی ہیں کہ شہر میں ایسے پارلر کی وجہ سے لوگ اچھے پارلرز کو بھی شک کی نظر سے دیکھنے لگے ہیں۔ ان کا کاروبار پہلے بہت اچھا تھا لیکن اب مقابلہ بڑھ گیا ہے اور آمدنی کم ہونے لگی ۔ جس کی وبہ سے انکے یہا ں کام کرنے والی لڑکیاں بھی ایسے پارلرز میں چلی گئی جہاں مرد بھی آتے ہیں کیوں کہ انہیں ٹپ زیادہ ملتا ہے۔ پولیس انسپکٹر بھرت گائکواڈ کے مطابق ممبئی کے مضافات خصوصا باندرہ سے اندھیری تک کے علاقے میں ایسے پارلرز بہت ہیں۔ ان کے سائن بورڈ پر لکھا ہوتا ہے ’مرد اور عورتوں کے لۓ‘ ایسے پارلرز بھی ہیں جہاں خواتین مردوں سے مساج کرواتی ہیں۔ ڈپٹی پولیس کمیشنر پی این سرودیہ نے بتایا کہ ابھی انہیں عدالت کے فیصلہ کی کاپی موصول نہیں ہوئی ہے۔ کاپی ملنے کے بعد ہی وہ فیصلہ کريں گی کہ کسی طرح اس کا نفاذ کیا جا سکے اور اس میں پولیس کا کیا کردار ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||