ہندوستان میں مسز ورلڈ کا مقابلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فیشن، سنیما، اورمس ورلڈ یعنی حسینہ عالم جیسے بڑے بڑے مقابلوں کے اہتمام سے ہندوستان نے گلیمر کی دنیا میں کافی شہرت حاصل کی ہے۔ لیکن اب اسی سمت میں ایک قدم اور آگے بڑھاتے ہوۓ اس بار مسزورلڈ یعنی شادی شدہ خواتین کا مقابلہ حسن بھی ہندوستان میں منعقد کیا جارہا ہے۔ خواتین کے حسن وجمال، انکی مثالی شخصیت اور دانشمندی کے لئے مشہور مسز ورلڈ کامقابلہ صنعتی شہر ممبئی میں ہوگا جس کے لئے ابھی سے تیاریاں جاری ہیں۔ سحر آفریں اور دلفریب مناظر سے پر اس مقابلے میں دنیا کے تقریبا پچاس ممالک کی چنندہ شادی شدہ خواتین اپنےحسن اور جوہر کا مظاہرہ کریں گی۔ اسکا اہتمام و انتظام ممبئی کی ایک مشہور فیشن کمپنی'' ڈی مارک پرسیپٹ'' کرر ہی ہے۔ آئندہ برس فروری میں عالمی مسزورلڈ کے مقابلے سے قبل کمپنی نے مسز انڈیا کی تلاش اس ہفتے سے شروع کی ہے۔ ابتدائی مراحل میں مسزانڈیا کی جستجو دلی، ممبئ، بنگلور اور کولکتہ جیسے بڑے شہروں میں جاری ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ پورے ملک سے تیس خواتین منتخب کی جائیں گی اور پھر آئندہ ماہ دسمبر میں ان میں ایک کو مسز انڈیا کے خطاب سے نوازہ جائے گا۔ مسز ورلڈ کے اس مقابلےمیں عورت کی جسمانی خوبصورتی کے علاوہ انکی ہمہ جہت شخصیت، جدید طرز زندگی میں توازن، انداز وادا، خود مختاری اور انکی فراست پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ ''ڈی مارک پرسیپٹ'' کمپنی کی صدر پریتا سکھانٹکر نے بی بی سی کوبتایا کہ چونکہ یہ مقابلہ اس بار ہندوستان میں ہوگا اس لئے پوری کوشش کی جاۓگی کہ اسے ہندوستانی رنگ میں پیش کیا جاۓ۔ انہوں نے کہا کہ مغربی دنیا میں شرکاء آخری مرحلے میں تیراکی کے کسٹیوم یا ایوننگ گاؤن میں پریڈ کرتے ہیں لیکن اس بار ہندوستانی ڈیزائنرانہیں گھاگراچولی یا ساڑی جیسے روایتی ہندوستانی لباس میں پیش کرینگے۔ پریتا کا کہنا تھا کہ اس بار عالمی مسزورلڈ کا اہتمام کئی دیگر ممالک بھی کرنا چاہتے تھے لیکن سیاحت کے شعبے میں ہندوستان کی کافی شہرت ہے اس لئے بہت سے ممالک ہندوستان کے حق میں تھے۔ علمی حسن کا مقابلہ ہندوستان کی حسینائیں کئی بار جیت چکی ہیں۔ سشمتا سین، ایشوریہ راۓ اور ڈائنا ہیڈین نے اسی پلیٹ فارم سے اٹھ کر فلموں میں اداکاری کےذریعے دنیا بھر میں شہرت حاصل کر رہی ہیں۔گزشتہ بار کینیڈا میں منعقدہ مسز ورلڈ مقابلے میں ہندوستان نے پہلی بار شرکت کی تھی اور اسے کامیابی بھی ملی تھی۔ یہ پہلا خطاب مشہور ماڈل آدیتی گواریکر نے جیتا تھا۔ گواریکر نے نے بتایا کہ ایک عورت کے لئے اپنی خاندانی زندگی اور پیشے میں توازن برقرار رکھتے ہوۓ اپنی علحیدہ شناخت بنانا بڑا مشکل کام ہے لیکن اگر صنف نازک ان تمام شعبوں میں توازن پیدا کر کے ایک مثالی زندگی پیش کرے تو کیا کہنا۔ انکا کہنا تھا کہ عالمی مسز ورلڈ کے مقابلوں میں خواتین کی ان خوبیوں پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ عالمی مسز ورلڈ کامقابلہ یوں تو گزشتہ تقریبا تیس برس سے ہوتا آیا ہے لیکن عالمی حسن کے مقابلوں کی بہ نسبت اسکی شہرت ذرا کم ہے۔اس میں شادی شدہ خواتین ہی حصہ لے سکتی ہیں۔ اس مقابلے کو ایک بار سری لنکا کی ایک دادی نے بھی جیتا تھا ۔ ہر برس اس مقابلے کے لئے دنیا کے کسی خاص مقام کو منتخب کیا جاتا ہے۔ اس بار پہلی دفعہ اسکا انعقاد ایشیا میں کیا جارہا ہے۔ سری لنکا اور ہندوستان اس خطاب پر پہلے قبضہ کر چکے ہیں اورممکن ہے کہ اس بار کسی تیسرے ایشیائی ملک کی باری ہو۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||