| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مس ورلڈ کا انتخاب
چین میں منعقد کئے گئے مقابلہ حسن میں آئرلینڈ کی روزانا ڈیویسن کو مس ورلڈ منتخب کرلیا گیا چین میں چوّن سال میں پہلی مرتبہ چین کسی ایسے مقابلے کی میزبانی کر رہا ہے۔ منتظمین کو توقع تھی کہ حینان کے جزیرے میں ہونے والے حسن کے اس مقابلے کو تقریباً دو ارب افراد دیکھیں گے۔ حال ہی میں چین میں اس قسم کے مقابلوں پر عائد پابندی ختم کی گئی ہے۔ ہفتے کو ہونے والے اس مقابلۂ حسن کے لئے اس مقام کو کثیر رقم خرچ کر کے سجایا گیا۔ یہ مقابلہ دیکھنے شرکاء اور مہمانوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی۔ پچھلے سال یہ مقابلہ نائجیریا میں ہونا تھا لیکن ایک تنازعے کے باعث وہاں خونی فسادات ہوگئے جس میں دو سو افراد مارے گئے تھے۔ فسادات اس وقت شروع ہوئے تھے جب مسلمانوں نے شمالی نائجیریا میں عیسائیوں پر ایک مقامی اخبار کی اشتعال انگیز رپورٹ کے بعد حملہ کر دیا تھا۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران ایک سو چھ ممالک سے آئی ہوئی خوبصورت لڑکیاں کیمروں کے سامنے چین کے تاریخی مقامات اور دلکش جگہوں پرآ جا رہی ہیں۔
حسن کی ان دیویوں نے فر والے کوٹ پہن کر دیوارِ چین دیکھی جس پر برف پڑی ہوئی تھی اور جزیرۂ حینان میں جسے چین کا حوائی بھی کہا جاتا ہے، تیراکی کی۔ مقابلۂ حسن ہفتے کو گرینچ کے معیاری وقت کے وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے شروع ہوا۔ یہ مقابلہ پہلی بار چین کے سرکاری ٹیلی وژن پر بھی دکھایا گیا۔ اس مقابلے کے لئے بارہ ملین ڈالر کی لاگت سے ایک خصوصی کمپلیکس تیار کیا گیا ہے۔ ججوں میں مارشل آرٹس کے لئے مشہور ہالی وڈ کے اداکار جیکی چین اور دو ہزار ایک میں مس ورلڈ کا اعزاز حاصل کرنے والی نائجیریا کی اگبانی داریگو شامل تھیں۔ انیس سو اننچاس میں کمیونسٹ انقلاب کے بعد حکام نے اس طرح کے مقابلوں کو یہ کہہ کر بند کر دیا تھا کہ یہ محض استحصال ہے۔ تاہم معاشی ترقی اور معاشرے پر گزشتہ چند سال میں کنٹرول نسبتاً کم ہونے کی وجہ سے اب چین میں شاہراؤں پر کیٹ واک بھی ہوتی ہے اور مغربی ڈیزائنروں کے اشتہار بھی ہر جگہ نظر آتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||