BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 June, 2004, 18:36 GMT 23:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیا واقعی خدا سے بھول ہو گئی؟

اصغر
اس نے اپنی معذوری کو دوسروں کے رحم و کرم پر ہونے کا جواز نہیں بنایا
فلم کے دوران سر رچرڈ ایٹنبرو کے یہ الفاظ میرے دماغ پر جیسے نقش ہو کر رہ گئے’دوسروں کے برخلاف اس کے پاس خدا کا شکر ادا کرنے کے جواز اگرچہ کچھ کم ہیں لیکن وہ باقاعدگی سے نماز ادا کرتا ہے۔‘

’اینڈ گاڈ مسڈ آؤٹ‘ یا ’اور خدا بھول گیا‘ کے نام سے پاکستانی فلم ساز بختیار احمد نے اصغر علی کی زندگی کے ایک دن پر فلم بنائی ہے۔

یہ فلم اصغر علی کی پُر حوصلہ زندگی کا ایسا عکس دکھاتی ہے جس میں بظاہر کوئی المناکی یا المیہ کی ڈرامائی کشاکش کی صورتحال نہیں ہے لیکن بیس منٹ اور کچھ سیکنڈ کی یہ فلم ختم ہوتی ہے تو دکھ روح کے اندر کسک جگاتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

اصغر علی لاہور میں پیدا ہوا، لاہور ایک جڑا اور جما ہواشہر ہے، جس کے ہر محلے گلی میں ہر کوئی ایک دوسرے کا خیال رکھتا ہے اور خبر بھی۔ اسی لیے جب اصغر علی پیدا ہوا تو اس کی پیدائش کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔

اس سے پہلے اس کا ایک بھائی اور ایک بہن پیدا ہوئی لیکن تب گلی محلے والے اس طرح نہیں آئے تھے۔ اور آتے بھی کیوں کیونکہ وہ، وہ تو ویسے ہی تھے جیسے سب ہوتے ہیں لیکن اصغر کو خدا اس کے بازو دینا بھول گیا تھا اور اس بات نے اسے نہ صرف بہت سی سہولتوں سے محروم کر دیا تھا بلکہ اسے تماشا بھی بنا دیا تھا۔

فلم میں اصغر بتاتا ہے کہ’جیسے ہی میرے پیدا ہونے کی خبر پھیلی تو گلی محلے والوں کے بعد سب سے پہلے بھکاری آئے اور انہوں نے میری ماں اور باپ سے کہا یہ بچہ آپ کے کس کام کا ہے، اسے آپ ہمیں دے دیں ہمارا بھلا ہو جائے گا۔‘

اس کی والدہ اور والد نے اس پر انتہائی نارضگی کا اظہار کیا اور انہیں گھر سے بھگا دیا اس کے بعد بھکاریوں نے اصغر کو پیسے دینے کی بھی پیشکش کی جو ظاہر ہے کامیاب نہ ہو سکی۔

اصغر
وہ دوسروں کے ساتھ مل کر بھی رقص کرتا ہے اور دوسروں سے کہیں بہتر ، اس کا رقص جذبے سے بھرا ہوتا ہے

بھکاریوں کے بعد اصغر بتاتا ہے کہ’سرکس والے آئے، اور اب میرے والد کا انتقال ہو گیا تو ملک کے باہر کے سرکس والے بھی آئے لیکن میری ماں نے صاف انکار کر دیا۔‘

اصغر کی والدہ کہتی ہیں’اصغر نے میرے فیصلے کو درست کر دکھایا اور وہ نہ صرف اپنے سارے کام خود کرتا ہے بلکہ کماتا بھی ہے۔‘

اب اصغر سلائی کرتا ہے ، اس نے سائن بورڈ لکھنے کا کام سیکھا، وہ سرکاری نوکری پر جاتا ہے جو اسے پاکستان کے انگریزی روزنامہ ڈان میں انٹرویو شائع ہونے کے بعد دی گئی، وہ دوسرے نوجوانوں کے ساتھ کھیلتا ہے، وہ بہت تیز دوڑتا ہے اور دوسرے نوجوانوں کے مقابلے میں بہت عمدہ بریک ڈانس کرتا ہے، فلم میں اسے ڈھول کی تھاپ جذب کے عالم میں دھمال ڈالتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ سب کرنے والے کو ایک معذور کیسے کہا جاسکتا ہے؟ حکومت پاکستان نے اسے خصوصی افراد کے عالمی مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے کیوں نہیں بھیجا، وہ اب بھی عام آدمی کے مقابلے میں تیز دوڑتا ہے اور اگر اسے عالمی مقابلوں میں بھیجا جاتا تو ضرور اپنے ملک کے لیے کوئی اعزاز حاصل کر سکتا تھا؟

ایسا کیوں نہیں ہوا؟ انسانی ہمت و حوصلے کی اتنی بڑی علامت اور ایک جیتی جاگتی مثال، شاید اسے بھی کسی کی سفارش کی ضرورت ہے؟

بختیار پاکستان ٹیلی ویژن سے وابستہ رہے، اس سے پہلے انہوں نے ریڈیو کے لیے کام کیا اور سٹیج کے لیے بھی۔ میں نے ان سے پوچھا:

اصغر
اس نے سلائی سیکھی اور سائن بورڈ لکھنا اور یہ دونوں کام وہ پاؤں سے کرتا ہے

’آپ کو ٹیلی ویژن ڈراموں کے علاوہ عالمی فلمسازی کا بھی تجربہ ہے اور اس سب کے بعد آپ ایک فل لینتھ فیچر فلم کی بجائے ایک دستاویزی فلم بنانے پر کیسے تیار ہوئے؟‘

’میں نے سوچ سمجھ کر یا کسی حکمتِ عملی کے تحت یہ فلم نہیں بنائی بلکہ اس سبجیکٹ نے مجھ سے یہ فلم بنوا لی۔‘ بختیار احمد نے جواب دیا۔

فنی اور تکنیکی اعتبار سے یہ فلم ان تمام توقعات پر پوری اترتی ہے جو بختیار جیسے تجربہ کار اور حساس فلم ساز سے کی جا سکتی ہیں۔ فلم کا ہر فریم اپنا جواز رکھتا ہے۔ بختیار نے بتایا کہ انہوں نے یہ فلم چھ گھنٹے کی ریکارڈنگ سے نکالی ہے۔ اس کا مطلب ہے اچھا اسٹوری بورڈ یا پہلے کہانی اور اس پر شوٹنگ کی اچھی منصوبہ بندی۔

فلم ختم ہوتے ہوئے ایک ایسی اذیت سی چھوڑتی ہے کہ گہرا سانس لینے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، وہ کوئی سوال نہیں کرتی لیکن ایک بے شکل، اندر سے اور اندر اترتا اورگونجتا ہوا ایک سوال چھوڑتی ہوئی ختم ہو جاتی ہے :

’کیوں؟ آخر کیوں؟ خدا نے ایسا کیا؟ اس میں خدا کی کیا مصلحت ہو سکتی ہے؟‘

بختیار
بختیار کا کہنا ہے کہ اصغر کی زندگی نے انہیں فلم بنانے کی تحریک دی

فلم دیکھنے والوں میں شریک ایک صاحب کی رائے تھی کہ ’اس فلم کو دیکھ کر خدا کے ہونے پر یقین آتا ہے اور اس کی مہربانیوں اور نعمتوں کا بھی، اور اس کا اندازہ انہیں دیکھ کر ہوتا ہے جنہیں اس نے ایک ادھ چیز سے محروم رکھا ہے۔‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد