سیالی بھگت بڑی بھاگیہ وان نکلِیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لکشمی پنڈت کی مبینہ شادی کے تنازعے اور ان کے مس انڈیا ورلڈ کا اعزاز واپس کردینے کے بعد خوبصورتی کے لئے مقرر کردہ اعزازت کو از سرِ نو ترتیب دیا گیا ہے جس کی رو سے سیالی بھگت نئی مس انڈیا ورلڈ قرار پائی ہیں۔ اعزازوں کی اس نئی تقسیم کے بعد جیوتی براہمن جو تیسرے نمبر پر تھیں، اب دوسرے نمبر پر آگئی ہیں اور انہیں مس ارتھ کا اعزاز مل گیا ہے۔ تنوشری دتا جو مس انڈیا یونیورس قرار دی گئی تھیں ان کا اعزاز ان کے پاس رہے گا۔ لکشمی پنڈت کے بارے میں تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب نو منتخب مس انڈیا ورلڈ 2004 کے بارے میں یہ باتیں سامنے آئیں کہ وہ شادی شدہ ہیں اور مقابلۂ حسن کے ضابطوں کے مطابق شرکاء کا غیر شادی شدہ ہونا ضروری ہے۔ مس انڈیا کے مقابلے کا اہتمام کرنے والوں کا اب بھی کہنا ہے کہ وہ لکشمی پنڈت کے بارے اس الزام کی تحقیق کر رہے ہیں کیونکہ اعزاز واپس کرنے کے باوجود انہوں نے اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ شادی شدہ ہیں۔ لکشمی پنڈت کو چند روز قبل ممبئی میں ہونے والی ایک رنگا رنگ تقریب میں انڈیا کی ملکۂ حسن کا اعزاز دیا گیا تھا۔ تاہم اس کے بعد ذرائع ابلاغ میں ایسی اطلاعات شائع ہوئیں جن میں ان خدشات کا اظہار کیا گیا کہ لکشمی پنڈت شادی شدہ ہیں اور ان کی عمر بھی چوبیس سال سے زائد ہے۔ یہ بھی کھلا ہے کہ لکشی پنڈت کو گزشتہ سال بھی ایک مقابلۂ حسن کے لیے نا اہل قرار دیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ ان کے سی وی میں بعض قابلِ اعتراض باتیں تھیں۔ مقابلے کی منتظم مورین واڈیا کا کہنا ہے کہ مس پنڈت گزشتہ سال میگا ماڈل کے مقابلے میں شریک ہونا چاہتی تھیں لیکن ان کی فراہم کردہ اطلاعات کے قابلِ اعتراض ہونے کی وجہ سے انہیں مقابلے میں شریک ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ لکشمی پنڈت کا کہنا ہے کہ ان کا ممبئی سے تعلق ہے اور وہ کلاسیکل رقاص ہیں۔ انہیں ان چھ ہزار لڑکیوں میں سے ملکۂ حسن منتخب کیا گیا تھا جو اس مقابلے کے لیے امیدوار تھیں۔ انہوں نے اپنے دستخطوں کے ساتھ ایک حلفیہ بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ شادی شدہ نہیں ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے شہر میں ایک فلیٹ کرائے پر لینے کے لئے اپنے آپ کو شادی شدہ کہا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||