 |  مسلم طالبات |
آج مسلم ممالک میں خواتین کا کردار کیا ہے؟ زندگی کے کن شعبوں میں خواتین نے نمایاں کردار ادا کیا ہے؟ کیا مسلم معاشروں میں خواتین کے کردار میں تبدیلی آرہی ہے؟ ایسی خواتین کا نام بتائیں جو آپ کے مقامی معاشرے میں یا بین الاقوامی سطح پر رول ماڈل کے طور پر ابھر کر آئی ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک میں، ہندوستان اور پاکستان کے معاشرے یا ملیشیا اور انڈونیشیا میں کیا آپ کو لگتا ہے کہ مسلم خواتین زندگی کے مختلف شعبوں میں آگے آرہی ہیں؟ کون ایسے مسائل ہیں جو خواتین کے لئے ترقی میں رکاوٹ بنتے ہیں؟ کون ذمہ دار ہے، مرد یا عورت؟ آپ کے خیال آئندہ دس برسوں میں خواتین کے کردار میں کیا تبدیلی آسکتی ہے اور کیوں؟ اب یہ فورم بند ہو چکا ہے۔ قارئین کی رائے سے ایک انتخاب نیچے درج ہے
شاکرہ عظیم، پاکستان: خواتین کے نام پر مراعات یافتہ طبقہ فائدہ اٹھا رہا ہے۔ حکومت چند خواتین کو وزارتیں دے دیتی ہے تو مولوی خواتین یونیورسٹی کے قیام پر بضد نظر آتے ہیں تاکہ ملک کی تمام لڑکیاں بنیادی تعلیم حاصل کرسکیں، پھر سیکنڈری سکول، کالج یونیورسٹی، ملازمت، ۔۔۔مگر اتنی دور کی کون سوچتا ہے۔ حسین علی احسانی، نیوزی لینڈ: میں سمجھتا ہوں کہ خواتین تمام مسلم ممالک میں جو کام کرنا چاہیں کرسکتی ہیں، اپنی تعلیم کے حساب سے۔ عورتوں کو مرد کے ساتھ کام کرنے کا حق ہے، میں امید کرتا ہوں کہ عورتوں کو سماج میں مدد کرنے سے مسلم ممالک کی بہتری ہوگی۔ غلام رسول چودھری، اٹک: ایک مسلم معاشرے میں جتنی آزادی ہوسکتی ہے کافی ہے۔ بلکہ آج کل کچھ زیادہ ہوتی جارہی ہے جس کی وجہ سے بےراہ روی میں اضافہ دیکھا سنا جارہا ہے۔۔۔۔ نعمان حفیظ، لندن: اسلام نے واقعی عورتوں کو بہت حقوق دیے ہیں۔ عورت کو بہترین مقام دیا ہے۔ عورت کے لئے جو حقوق اسلام نے دیے ہیں اور جو شرائط اسلام نے بتائی ہے وہ وقت کے ساتھ تبدیل نہیں ہوسکتیں۔ عورت کو اختیار ہے کہ وہ اپنے آپ کو معاشرے کی تعمیر میں استعمال کرے لیکن حدود کے ساتھ۔ جمیل احمد الحسنی، بلوچستان: عورت کو اسلام نے چراغ خانہ بنایا ہے، شمع محفل نہیں بنایا ہے۔ اس لئے عورت کے حقوق کی جنگ کا مقصد عورتوں کو بےحیا بنانے کے مترادف ہے۔ ساجل شاہ، نیوادا، امریکہ: اسلام نے عورت کو بہت سے حقوق دیے ہیں جن میں ایک حق یہ بھی ہے کہ وہ اپنے مرد کے ساتھ معاشی طور پر بوجھ اٹھاسکتی ہے۔ لیکن ہمارے آج کے مولویوں نے اور مرد نے اپنی انا کو اونچا رکھنے کے لئے اسلام کو ہتھیار بناکر بدنام کیا ہے۔ امجد اقبال، لاہور: میرے خیال میں عورتوں کو جو مقام اسلام نے دیا ہے وہ سب سے بہتر ہے۔ اس کو عزت کے ساتھ گھر بٹھاکر نان و نفقہ کے غم سے نجات دی ہے۔ گھر کی چند چھوٹی موٹی ذمہ داریوں کے علاوہ سب ذمہ داریاں مرد کے اوپر ڈال دی ہیں۔ اس کو سارے حقوق دیے ہوئے ہیں جو کسی اور معاشرے نے نہیں دیے۔ اعجاز احمد، صادق آباد: میری سمجھ سے باہر ہے کہ عورت کی آزادی کے پیچھے کیوں پڑے ہیں لوگ؟ ایک عورت جو اپنے گھر میں چار لوگوں کو کھانا کھلاتی ہے اور عزت کے ساتھ ہے وہ بہتر ہے یا وہ عورت جو ایک جہاز میں تین سو لوگوں کو کھانا کھلاتی ہے اور مختلف قسم کی نظروں سے گزرتی ہے؟ کیا یہی عورت کی آزادی ہے؟ امین اللہ شاہ، میانوالی سٹی: ایجوکیشن اور ہیلتھ دو شعبے ایسے ہیں جو مسلمان عورت کے لئے موزوں ترین ہیں۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے مرد سے عورت کی تخلیق ذرا مختلف بنائی ہے۔ ان دو شعبوں میں مسلم عورتوں کا کردار مسلمہ ہے۔ جاوید اقبال ملک، چکوال: خواتین کے کردار سے انکار نہیں کیا جاسکتا مگر خواتین کا دوسرا نام شرم و حیا ہے اور اسی شرم و حیا میں ہی ایک مکمل خاتون پنہاں ہے۔ مفکر میاں، بہاولپور: عورت ہماری سوسائٹی کا ایک اِمپورٹنٹ حصہ ہے۔ ہم ان کو چاہیں بھی تو اِگنور نہیں کرسکتے۔ ہمارے مذہب میں جب ان کا ایک مقام بنا ہے تو آپ کو یا مجھے کوئی حق حاصل نہیں کہ ہم ان کی قدر نہ کریں۔ آصف رفیق، مونروویا: مسلم سماج میں عورتیں بہتر کردار ادا کررہی ہیں، تاہم ابھی بھی کافی رکاوٹیں ہیں جن کی وجہ سے قومی تشکیل میں ان کا کردار کم ہے۔ عورتوں کو ابھی بھی سیکنڈ گریڈ شہری سمجھا جاتا ہے۔ لیکن گزشتہ ایک عشرے میں کافی تبدیلیاں آئی ہیں۔ انڈیا اور پاکستان میں خواتین کافی اچھا کردار ادا کررہی ہیں۔ ضمیر چودھری، لندن: مسلم سوسائٹی خواتین کے کردار کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ اسلام نے کہا ہے کہ بہترین عورت ایک مشیر ہے۔ فراز قریشی، کراچی: مسلم سوسائٹی کی لیڈیز بہت کارآمد ثابت ہوسکتی ہیں اگر ان پر ہم اپنی ٹریڈیشنل سوچ اِمپوز نہ کریں۔ ویسے آئندہ دس سال میں میں بہتر بہتری کے آثار دیکھ رہا ہوں۔ آدھی آبادی کو گھر بیٹھاکر سیویلائزڈ سوسائٹی ترقی کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے؟ راحیل جعفری، کراچی: مسلم خواتین کو اسلام کے پرچم کو بلند کرنے کے لئے مردوں کے شانہ بہ شانہ اور قدم سے قدم ملاکر اسلام کے ذریں اصولوں کو اپناکر دنیا میں اسلام کی خدمت کرنی چاہئے، اس کے لئے ان کو بےشک ایسا ہی کام کیوں نہ کرنی پڑے جو مسلم مرد کرتے ہیں اور صرف اور صرف حجاب کے اندر رہتے ہوئے۔ جاوید جمال الدین، ممبئی: مجھے کبھی کبھی یہ دیکھ کر عجیب محسوس ہوتا ہے کہ مشرقی اور خاص طور پر اسلامی معاشرے میں خواتین کو غلام سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے اسلامی اسکالرز اور خصوصا جمعہ کے امام حضرات کہتے ہیں کہ اسلام نے سب سے زیادہ خواتین کو آزادی دی ہے۔ یہ حقیقت بھی ہے لیکن یہ حضرات آج ہونے والی ناانصافی کے بارے میں کچھ نہیں کہتے ہیں۔ جہاں تک ہندوستان کی بات ہے، مسلم سوسائٹی میں اور شمالی ہندوستان کی ریاست اترپردیش، بہار وغیرہ میں بہت خراب صورت حال ہے۔ یہ سب صرف مسلمان خواتین کے ساتھ ہی نہیں ہے بلکہ ہندو سوسائٹی بھی اس سے بچی نہیں ہے۔ لیکن اس کے برعکس چند سال کا جائزہ لیا جائے تو ایک امید نظر آرہی ہے، سیکنڈری اور ہایئر سیکنٹڈری کے بورڈ میں مسلم طالبات نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور وہ اب میڈیکل، انجینیئرنگ، صحافت، مینیجمنٹ اور ٹیچنگ کے شعبوں میں مردوں سے آگے ہیں۔ یہ ریکارڈ ہے کہ چند برسوں سے مغربی ریاست مہاراشٹر میں اردو میڈیم کی طالبات اول نمبر پر آرہی ہیں۔ مسعود احمد، کراچی: مسلمان خواتین کو ملکی ترقی میں ضرور حصہ لینا چاہئے لیکن اسلام نے جو احکامات دیے ہیں ان کی پابندی کے ساتھ۔ اس لئے دینی اور جدید سائنٹفک تعلیم دونوں ضروری ہے۔۔۔۔ جہاں زیب سلیم، لاہور: میں سمجھتا ہوں کہ خواتین میں کافی ٹیلنٹ ہے جو ضائع نہیں ہونی چاہئے۔ آج کل وہ زندگی کے شعبوں میں اچھا کام کررہی ہیں۔ انہیں کام کرنے کا ہر موقع دیا جانا چاہئے۔ شاہد نواز، لاہور: میرے خیال سے خواتین کو اپنی اہلیت، معاشرے اور تہذیب کے مطابق کوئی کام منتخب کرنا چاہئے۔ مثال کے طور پر مسلم ممالک میں انہیں اپنے شوہر اور فیملی کی ہاؤس وائیف کی حیثیت سے سپورٹ کرنی چاہئے۔ عبدالعلیم، ناگویا، جاپان: سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ مقصد حیات کیا ہے؟ اگر مذہب کو ایک طرف رکھ کر بھی سوچا جائے تو کیا معاشی ترقی ہی ہماری منزل ہے؟ اگر ہاں تو پھر تو عورت کو گھر سے نکل کر عام مردوں کی طرح ہر کام کرنا چاہئے، اس میں اس کوئی طاقت یا برداشت ہو یا نہیں۔ یہاں جاپان میں ایک طویل عرصہ گزارنے کے بعد میں اسی نتیجے پر پہنچا ہوں کہ عورت کو مرد کی مدد کی ضرور کرنی چاہئے۔ لیکن پورے معاشرے کا بوجھ مرد کی طرح اٹھانے کی نہ اس میں اہلیت ہے اور اگر وہ کوشش بھی کرتی ہے تو اپنے آپ پر ظلم کرتی ہے۔۔۔۔ ندیم رانا، بارسلونا: مسلم خواتین کو جدید دنیا میں کردار ادا کرنا چاہئے تبھی مسلم معاشرے بہتر ہوسکتے ہیں۔ مسلم عورتوں کو یورپی عورتوں کی طرح اپنے ملک اور سماج کے لئے کام کرنا چاہئے تاکہ ہم مغربی ممالک کی طرح ترقی کرسکیں۔ وہ مردوں کے ساتھ آگے بڑھیں، مرد کھلے ذہن رکھیں اور عورتوں کو بہتر مستقبل کی تلاش میں آگے بڑھنے دیں۔ احمد عمران، ابو ظہبی: ہم لوگ عورتوں کو ایک الگ مخلوق سمجھتے ہیں، وہ بچے پالے، کھیتوں میں کام کرے، مگر وہ کمتر ہے۔ میرے لئے رول ماڈل مختاراں مائی ہے جس کو غیرسرکاری اداروں نے پیسے بھی دیے لیکن وہ پیسے اس نے وہ پیسے لڑکیوں کے اسکول کے لئے دیے دیے۔ ۔۔۔ ایسی تعلیم دوست ہستی کے ساتھ یہ کچھ ہورہا ہے افسوس ہوتا ہے۔ |