مشرف حملہ، فیصلے کے خلاف اپیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف پر دسمبر سن دو ہزار تین کو ہونے والے قاتلانہ حملے میں ملوث ہونے کے جرم میں سزائے موت سنائے جانے والے کشمیری نژاد روسی شہری نے اس فیصلے کے خلاف ایپل دائر کی۔ پاکستان کی فوجی عدالت نے جن پانچ افراد کو موت کی سزا سنائی تھی ان میں ایک کشمیری نژاد 24 سالہ روسی نوجوان اخلاص اخلاق احمد اور ایک پاکستان کی فوج کے کمانڈو شامل ہیں جبکہ تین افراد کو قید کی سزا سنائی گئی ہے اور اس واقعہ کی نویں خاتون ملزمہ کو بری کر دیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے بارے میں 26 اگست کو پاکستان کی فوج کے محکمہ تعلقات عامہ کے ذریعے ذرائع ابلاغ کو بتایاگیا تھا۔ 24 سالہ کشمیری نژاد روسی شہری اخلاص اخلاق احمد کے وکیل راجہ خالد محمود خان نے منگل کو بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ اپیل دائر کردی گئی ہے۔ یہ ایپل پاکستان کی فوجی عدالت کورٹ آف اپیل سنے گی اور یہ کورٹ آف اپیل پاکستان کے فوج کے چیف آف آرمی سٹاف یا ان کی طرف سے نامزد کیے جانے والے فوجی افسر پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس وقت پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف خود پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف ہیں۔ اخلاص احمد کے وکیل راجہ محمود خان نے اپیل میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ کہ فوجی عدالت کے فیصلے میں قانونی نقائص موجودہیں لہذا یہ فیصلہ درست نہیں ہے۔ انھوں نے اپیل میں یہ بھی کہا ہے کہ کہ استغاثہ فوجی عدالت میں ملزم کے خلاف الزامات ثابت نہیں کرسکے اور اس طرح عدالت کا فیصلہ غیرقانونی، نامناسب اور غلط ہے۔
انھوں نے یہ بھی موقف اختیار کیا ہے کہ یہ فیصلہ اس امر پر مبنی ہے کہ شہادت کے مفہوم کو صیح سمجھا نہیں گیا ہے۔ انھوں نے اپیل میں کہا کہ عدالت نے استغاثہ کے شہادتوں کو غیرضروری اہمیت دی اور ملزم کی سزا قانون اور مقدمے کے حقائق کے مطابق نہیں ہے۔ وکیل صفائی نے اپیل میں استدعا کی کہ ملزم اخلاص اخلاق احمد بے گناہ ہے لہذا ان کی سزا کو کالعدم قرار دے کر بری کیا جائے۔ اب پروزیز مشرف پر منحصر ہے کہ وہ اخلاص اخلاق کی اس اپیل کو مسترد کرتے ہیں یا منظور کرتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||