مشرف پر حملہ، مجرم منتقل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر پرویز مشرف پر25 دسمبر، سنہ 2003 کو ہونے والے مبینہ خودکش حملے کی سازش تیار کرنے کی پاداش میں موت اور قید کی سزا پانے والے ایک فوجی کمانڈو سمیت آٹھ افراد کو تئیس اگست کے روز جہلم اور اٹک کی سویلین جیلوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔ موت کی سزا پانے والوں کمانڈو نائیک ارشد محمود اور ان کے سویلین ساتھیوں زبیر احمد، راشد قریشی، غلام سرور اور اخلاص احمد کو اٹک جیل جبکہ قید کی سزا پانے والوں عدنان خان عرف رانا، امیر سہیل عرف ساجد اور رانا محمد نوید کو جہلم کی جیل میں انتہائی خطرناک قیدیوں کے سیل میں بند کیا گیا ہے۔ راولپنڈی کے رہائشی کمانڈو ارشد ولد حاجی مہربان کا تعلق فوج کے سپیشل سروسز گروپ یعنی ایس ایس جی سے تھا۔ صدر جنرل مشرف بھی فوج کے اسی گروپ سے تعلق رکھتے ہیں اور اسی لیے وہ اکثر کمانڈوز کے لیے مخصوص کیموفلاج یونیفارم پہنے نظر آتے ہیں۔ صدر پر قاتلانہ حملہ کرنے کے جرم میں موت کی سزا پانے والے دوسرے افراد میں سے زبیر احمد ولد اللہ دتہ جنوبی پنجاب کے ضلع لودھراں، راشد قریشی ولد انور قریشی راولپنڈی کے علاقے پنڈورا، غلام سرور ولد صفدر بھٹی راولپنڈی اور اخلاص احمد ولد اخلاق احمد کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع پونچھ سے معلوم ہوا ہے۔ بیس سال قید با مشقت کی سزا پانے والے امیر سہیل ساجد ولد ولی محمد کا تعلق منڈی بہاؤالدین، پچیس سال سزا پانے والے رانا نوید ولد رانا فقیر حسین وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی زیڈ ٹی بی ایل کالونی کے بلاک بی/ون کے فلیٹ نمبر بارہ کے رہائشی اور دس سال سزا پانے والے عدنان خان ولد گیلاف خان آفریدی کا تعلق جمرود (پشاور) کے ٹیڈی بازار سے بتایا گیا ہے۔ محکمہ داخلہ کے ذرائع کے مطابق ان تمام افراد کو پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعہD-31 کے تحت سزائیں دی گئی ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سزائیں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے تحت ہونے والی کاروائی میں ائیر ڈیفنس رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے لیفٹینٹ کرنل کے عہدے کے ایک فوجی افسر نے ملزموں کو جیل منتقل کرنے سے چند روز قبل سنائی تھیں۔ اس سے قبل بیس اگست کی صبح ملتان کی نیو سنٹرل جیل میں صدر جنرل مشرف پر تیرہ دسمبر کے روز راولپنڈی کے ہی ایک مقام جھنڈا چیچی پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی سازش کرنے والے فوجی اسلام صدیقی کو پھانسی دی گئی تھی۔ اپنے خاندان والوں سے آخری ملاقات میں اسلام صدیقی نے کہا تھا کہ وہ صدر مشرف پر حملہ کرنے کی سازش میں ملوث نہیں رہا تاہم منصبوبہ تیار کرنے والے اس کے دوست ضرور تھے۔ ان کے والد کریم بخش کے بقول ان کے بیٹے کا کہنا تھا کہ اسے اس الزام کے تحت سزا دی جارہی ہے کہ اسے سازش کا علم تھا لیکن اس نے حکام کو اس بارے آگاہ نہیں کیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||