صدرمشرف پرحملہ: فوجی کو پھانسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کی سازش میں ملوث ایک فوجی اہلکار اسلام الدین شیخ عرف عبدالسلام صدیقی کو سنیچر کی الصبح ملتان کی سنٹرل جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ عبدالسلام کی میت لینے کے لیے ان کے والد کریم بخش اور چند دوسرے عزیزواقارب جیکب آباد سندھ سے ملتان آئے ہوئےتھے۔ صدر پر قاتلانہ حملے کی سازش کرنے والے ملزم کو صبح ساڑھے چار بجے پھانسی دی گئی۔ عبدالسلام پر الزام تھا کہ وہ چودہ دسمبر دو ہزار تین میں راولپنڈی میں جی ایچ کیو کے قریب جھنڈا چیچی پل پر صدر جنرل پرویز مشرف پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی سازش کرنے والوں میں شامل تھا۔ یاد رہے کہ راولپنڈی کے جھنڈا چیچی پل پر بیس
ذرائع کے مطابق عبدالسلام کو موت کی سزا فیلڈ کورٹ مارشل کے تحت دی گئی۔ ملزم نے سزا کے خلاف رحم کی اپیل پہلے وائس چیف آف آرمی سٹاف سے کی اور یہاں سے مسترد ہونے کے بعد چیف آف آرمی سٹاف یعنی جنرل پرویز مشرف سے کی جو کہ مسترد کر دی گئی۔ عبدالسلام کو ایک ماہ قبل سیالکوٹ جیل سے ملتان کی نیو سنٹرل جیل منتقل کیا گیا تھا۔ سزائے موت پر علمدرآمد سے ایک روز قبل عبدالسلام کے رشتہ داروں سے آخری ملاقات کرائی گئی۔ پھانسی دیئے جانے کے وقت اعلیٰ فوجی حکام بھی موقع پر موجود تھے۔ عبدالسلام کے والد کریم بخش جو جیکب آباد کے علاقے ٹھل سے اپنے بیٹے کی لاش لینے آئے تھے نے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کے آخری ملاقات میں بھی ان کے بیٹے کا کہنا تھا کہ وہ بے قصور ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا سولہ سال سے فوج میں تھا تاہم وہ اس کے عہدے کےبارے نہیں جانتے۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً دو سال قبل پشاور تعیناتی کے دوران عبدالسلام کئی ماہ کے لیے غائب ہوگیا۔ جس پر پریشان ہوکر انہوں نے حکام سے رابطہ کیا تو انہیں بتایا گیا کہ ان کا بیٹا آجکل وانا (وزیرستان) میں ڈیوٹی پر ہے۔ تاہم کوئی آٹھ ماہ کے بعد انہیں پتہ چلا کہ عبدالسلام صدر مشرف پر حملے کے الزام میں سیالکوٹ جیل میں قید ہے۔ پینتیس سالہ عبدالسلام کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی جن کی عمریں چار سے دس سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ صدر مشرف پر قاتلانہ حملے کے الزام میں اور کتنے افراد گرفتار ہوئے تھے اور ان میں کتنے لوگوں کو سزا سنائی گئی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||