کمانڈو سمیت 5 کو سزائے موت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف پر پچیس دسمبر سن 2003 کو ہونے والے قاتلانہ حملے میں ملوث ہونے کے جرم میں ایک فوجی کمانڈو سمیت پانچ افراد کو فوجی عدالت نے سزائے موت جبکہ تین افراد کو قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل شوکت سلطان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مجرمان میں سے نائیک ارشد محمود، زبیر احمد، راشد قریشی، غلام سرور اور اخلاق احمد کو موت کی سزا سنائی گئی ہے۔ جبکہ ان کے مطابق تین سویلین ملزمان میں سے رانا محمد نوید کو عمر قید، عامر سہیل نامی شخص کو بیس سال اور عدنان کو پندرہ سال قید کی سزا دی گئی ہے۔ پچیس دسمبر کے حملے میں کل نو ملزمان تھے جن میں ایک خاتون بھی شامل تھی۔ واحد خاتون ملزم جو رانا محمد نوید کی بیگم بتائی جاتی ہیں ان کے بارے میں تاحال یہ معلوم نہیں کہ انہیں رہا کر دیا گیا ہے یا انہیں بھی کوئی سزا سنائی گئی ہے۔ یاد رہے کہ صدر پر چودہ دسمبر کے حملے میں ملوث ایک فوجی اہلکار کو گزشتہ سنیچر کے روز ملتان جیل میں پھانسی دے دی گئی تھی۔
خاتون ملزم کے بارے میں جب فوجی ترجمان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ فی الوقت انہیں اس بارے میں معلومات حاصل نہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام ملزمان کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے تحت یہ سزائیں سنائی گئیں ہیں۔ اس ضمن میں جب فوجی ترجمان سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ملزمان میں ایک فوجی اور سات شہری ہیں اس لیے متعلقہ قوانین کے تحت ان کا ٹرائل کرکے انہیں سزا سنائی گئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں میجر جنرل شوکت سلطان نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف پر پچیس دسمبر کو ہونے والے حملے میں ملوث ان ملزمان کو یہ سزائیں چند روز قبل سنائی گئیں تھیں۔ واضح رہے کہ ان ملزمان کے خلاف اٹک قلعہ میں فوجی عدالت نے سماعت کی تھی۔ سماعت کے دوران ملزمان کو وکلاء مقرر کرنے کا حق دیا گیا تھا۔ لیکن تمام کارروائی خفیہ رکھی گئی۔ صدر جنرل پرویز مشرف پر دسمبر سن دوہزار تین میں چودہ اور پچیس تاریخ کو یکے بعد دیگرے دو ناکام مگر انتہائی خطرناک بم حملے ہوئے تھے۔ چودہ دسمبر کو راولپنڈی کے جھنڈا چیچی پل پر ہونے والا حملہ ریموٹ کنٹرول بم سے کیا گیا تھا لیکن صدر کے قافلے کی گاڑیوں میں نصب شدہ ’سگنل سینسرنگ‘ آلات کی وجہ یہ بم اس وقت نہیں پھٹ سکا تھا جب گاڑیاں پل سے گزر رہی تھیں۔ پچیس دسمبر کو دوسرا حملہ خود کش تھا اور اس میں دو گاڑیاں استعمال کی گئی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق ایک تیسری گاڑی بھی بارود سے بھری ہوئی تھی جو عین وقت پر ’سٹارٹ‘ نہیں ہوسکی تھی۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے مختلف انٹرویوز میں ان حملوں کا سرغنہ القاعدہ کے رہنما ابو فراج اور امجد فاروقی کو قرار دیا تھا۔ ابو فراج اللبی کو مردان سے چند ماہ قبل گرفتار کیا گیا تھا جبکہ امجد فاروقی کو ایک مقابلے میں ماردیا گیا تھا۔ جبکہ اس حملے میں ملوث ایئر فورس کے کچھ اہلکاروں کو بھی فوجی قوانین کے تحت سزائیں ہوئیں تھیں۔ سزا یافتہ فضائیہ کا ایک ملزم فوج کی تحویل سے فرار ہوگیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||