پرل کیس: تحقیقی افسر پر حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں ایک مسلح شخص نے امریکی صحافی ڈینیل پرل کیس کے انویسٹیگیشن افسر اور مبینہ جہادی اور فرقہ ورانہ تنظیموں کے خلاف کارروایوں کے اہم کردار سینیئر پولیس افسر منظور مغل پر قاتلانہ حملہ کیا ہے۔ ایم ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ ملزم سے ایک فہرست برآمد ہوئی ہے جس پر سندھ کے گورنر اور متحدہ کے وزرا کے نام درج ہیں۔ پولیس کے مطابق میٹھادر کے علاقے میں ڈی آئی جی انویسٹیگیشن کے دفتر میں ایک شخص بشیرخان مدعی بن کر آیا اور بتایا کہ وہ سہالہ کا انسٹریکٹر ہے۔ اس نے ڈی آئی جی منظور مغل سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ سندھ کے وزیر داخلہ کے مطابق دفتر میں داخل ہوتے ہی بشیر خان نے پستول نکال کر فائر کیا اور گولی منظور مغل کے سر کو چھوتی ہوئی گزر گئی۔ منظور مغل نے ملزم سے پستول چھیننے کی کوشش کی مگر وہ ایک اور فائر کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ مگر منظور مغل اس فائر سے بھی بچ گئے اور ملزم کو گرفتار کرلیاگیاہے۔ اس واقعے کا مقدمہ میٹھادر پولیس تھانے پر درج کیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی آپریشن مشتاق شاھ نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم نے اپنا نام بشیر خان بتایا ہے وہ صوبے سرحد کے علاقے کوہاٹ کا رہائشی ہے۔ اس حملے کے اسباب کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ سینئر پولیس افسر پر اس کے دفتر کے اندر حملہ ہونے کے اس واقعے کے بعد صوبائی وزیر داخلہ نے ایک اے ایس آئی ارشاد اور دیگر سپاہیوں کو ملازمت سے برطرف کردیا ہے۔ کالعدم اور جہادی تنظیموں کے خلاف حالیہ آپریشن شروع ہونے کے بعد کسی افسر پر یہ اس طرح کا پہلا حملہ ہے۔ دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کی ڈپٹی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار، نسرین جلیل اور انور عالم نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا ہے کہ گرفتار ملزم سے ایک لسٹ برآمد ہوئی ہے جس میں سندھ کے گورنرڈاکٹر عشرت العباد، وزیر داخلہ رؤف صدیقی، ایم این اے کنور خالد یونس کہ نام سرفہرست ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سنگین واقعہ ہے جو کراچی میں خون خرابہ کرانے کی ایک بڑی سازش ہے کا حصہ ہے اور اس کا مقصد خون خرابے کو جواز بناکر کراچی میں بلدیاتی انتخابات کو سبوتاز کیا جاسکے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||