مشرف حملہ، ایک مجرم روسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف پر پچیس دسمبر سنہ دو ہزار تین کو ہونے والے قاتلانہ حملے کے مقدمے میں موت کی سزا پانے والے پانچ مجرموں میں سے ایک روس کا شہری ہے۔ چوبیس برس کے اخلاص اخلاق نامی اس مجرم کو فوجی عدالت کی چارج شٹیٹ میں اخلاص اخلاق المعرف روسی بتایا گیا تھا اور معلوم ہوا ہے کہ یہ سنہ دو ہزار ایک میں روس سے پاکستان آیا تھا۔ اخلاص کے والد پاکستانی جبکہ والدہ روسی ہیں۔ والدین میں اختلافات اور پھر علیحدگی کے بعد وہ والدہ کے پاس رہے لیکن چار برس پہلے وہ کوٹلی ہسپتال میں ملازم اپنے والد ڈاکٹر اخلاق کے پاس آگئے تھے۔ ان کے پاسپورٹ پر لگائے گئے امیگریشن موہر کے مطابق وہ سولہ مارچ سنہ دو ہزار ایک کو کراچی کے بین الاقومی ائرپورٹ پہنچے۔ ان کے پاسپورٹ پر لگے ہوئے پاکستانی ویزے پر تاریخ کے مطابق ویزا ان کے سفر سے صرف ایک روز پہلے جاری ہوا تھا۔ والد کی کہانی اس کے چار برس بعد اخلاص اخلاق 16 مارچ دو ہزار ایک کو اپنے والد ڈاکڑ اخلاق کے ساتھ رہنے کے لیے واپس پاکستان آئے لیکن یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس دوران ان کے کشمیر میں برسر پیکار کچھ جہادی تنظیوں کے ساتھ رابطہ ہوا اور اسی دوران وہ وہ سن دو ہزار تین کے اوائل میں لاپتہ ہوگئے۔ ان کے والد کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کی تلاش شروع کی اور اس دوران ان کو کچھ ذرائع سے یہ معلوم ہوا کہ ان کو پاکستان کی ایک خفیہ ایجنسی نے حراست میں لیا لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس سال مئی میں ان کو ایک فوجی افسر نے بتایا کہ ان کا بیٹا ان کی حراست میں ہے اور ان کا مقدمہ اٹک قلعے میں ایک فوجی عدالت میں چلنے والا ہے۔ ڈاکٹر اخلاق کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کے لاپتہ ہونے کے بعد اس سال جولائی میں اٹک قلعے میں مقدمے کی سماعت ہوئی جس میں ا نہیں بیان ریکارڈ کرانے کے لیے وہاں لے جایا گیا۔ ڈاکڑ اخلاق نے بتایا کہ انہوں نے اپنے بیٹے اخلاص کو ہتھکڑیوں اور زنجیروں میں دیکھا لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اخلاص کا چہرہ ڈھکا ہوا تھا۔ اخلاص کی روسی والدہ جو روس کے علاقے وولگوگراڈ میں ہیں ان تمام حالات سے بے خبر ہیں۔ ڈاکڑ اخلاق کہتے ہیں کہ انہوں نے پہلے اپنے بیٹے کے لاپتہ ہونے کی خبر اس کی والدہ کو اس لیے نہیں دی کہ وہ پریشان ہوتیں اور فوجی عدالت میں چلنے والے مقدمے کے بارے میں اس لیے ان کو بے خبر رکھا کیونکہ فوجی حکام نے سختی سے یہ منع کیا تھا کہ اس کے بارے میں کسی کو کچھ نہ بتایا جائے۔ ڈاکڑ اخلاق نے اب تک اپنی سابق بیوی کو صورتحال کے بارے میں مطلع نہیں کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ یہ کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کا اپنی سابق بیوی یا دوسرے بیٹے سے فون پر رابطہ نہیں ہو رہا ہے۔ ڈاکڑ اخلاق کا یہ بھی کہنا ہے کہ اخلاص کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے اور وہ اپنے بیٹے کو انصاف دلانے کے لیے لڑیں گے۔ مقدمے میں بتائی گئی تفصیل پر کچھ سوالات
ڈاکٹر اخلاق کا یہ بھی کہنا ہے کہ استغاثہ کی طرف سے یہ بھی الزامات لگائے گئے کہ اخلاص 1996 سے 2003 تک ملک میں کشمیر میں جہادی سرگرمیوں میں ملوث رہا لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ وہ سن 1997 سے 2001 تک اپنی روسی والدہ اور چھوٹے بھائی کے ہمراہ روس میں تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||