’مشرف کا راستہ: نقصان دہ زیادہ ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پا کستان مسلم لیگ نواز کے سربراہ راجہ ظفرالحق نے کہا ہے کہ صدر مشرف نے ایک ایسا راستہ اپنایا ہے جس میں پاکستان کے لیے کچھ حاصل کرنے کے مواقع کم اور نقصان کے خطرات زیادہ ہیں۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ صدر مشرف اور پاکستان کی موجودہ لیڈر شپ اس قابل نہیں ہے کہ وہ موجودہ صورت حال پر قابو پا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جیوش کانگریس کے لوگ کوئی عام لوگ نہیں ہیں وہ ایسے امریکی یہودی ہیں جو پوری دینا کے معاملات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور گہری سوچ اور دور رس منصوبہ بندی کرنے والے لوگ ہیں ان سے صدر مشرف اور ان کی ٹیم معاملات میں مار کھاجائے گی ۔
انہوں نے کہا کہ صدر مشرف تو بھارت سے نمٹنےمیں بھی ناکام ہیں وہ امریکہ کے ان یہودیوں سے کیا معاملہ طے کریں گے۔ ان کی لیڈر شپ میں پاکستان کو نقصان ہی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہودی ان کے امریکن جیوش کانگریس میں شرکت اور خطاب جیسے بڑے اقدام کے باوجود ان سے خوش نہیں ہیں اور امریکن جیوش کانگریس کے مرکزی عہدیدار جیک روزین نے شکوہ کیا ہے کہ صدر مشرف نے ان کے توقعات مطابق بیان نہیں دیا۔ راجہ ظفر الحق نے کہا کہ جیوش کانگرس کے اراکین شاید اس بات کی خواہش دل میں لیے بیٹھے تھے کہ صدر مشرف باقاعدہ سفارت خانہ کھولنے کا اعلان نہیں کریں گے تو کم ازکم کسی رابطہ دفتر کے قیام کی بات ضرور کریں گے جو صدر مشرف نے نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ امریکن یہودی صدر مشرف سے بہت کچھ چاہ رہے ہیں اور ان کے بہت کچھ کردینے کے باوجود ان سے خوش نہیں ہیں۔ پاک اسرائیل تعلقات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب بھی کسی ملک کے لیے اس قسم کی صورت حال پیدا ہوتی ہے تو کچھ حاصل کرنے کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں اور نقصان کے خطرات بھی ہوتے ہیں۔ راجہ ظفر الحق نے کہا کہ ان کے مطابق موجودہ لیڈر شپ اس قابل نہیں ہے کہ وہ پاکستان کے مفاد میں کچھ حاصل کر سکے اس کی بجائے وہ نقصان ہی کراسکتے ہیں جیسا کہ ان کے بقول اب تک موجودہ لیڈر شپ نے پاکستان کا ہر بین الاقوامی محاذ پر نقصان کرایا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||